سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 583 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 583

525 اور بعض کو تو باوجود یکہ اطمینان ہو چکا تھا کہ یہ خبر غلط ہے مگر انہیں دھڑ کے کی بیماری ہوگئی۔“ خطبات محمود جلد ۱۲ صفحه ۴۳۶ ) اسی طرح آپ نے جماعت کو اس خبر کے پس منظر میں ایک نہایت ضروری امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: اسے اپنے جہاں خدا تعالیٰ نے اس طرح جماعت کو اخلاص کے اظہار کا موقع دیا وہاں یہ بھی بتا دیا کہ انسان آخر انسان ہی ہے خواہ وہ کوئی ہو اور ایک نہ ایک دن مخلصین سے جدا ہونا پڑتا ہے اس بات کا احساس بھی خدا تعالیٰ نے جماعت کو کرا دیا۔اس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ خلیفہ سے جماعت کو جو تعلق ہے وہ جماعت ہی کی بہتری اور بھلائی کے لئے ہے اور جو بھی خلیفہ ہو اس سے تعلق ضروری ہے۔یاد رکھو اسلام اور احمدیت کی امانت کی حفاظت سب سے مقدم ہے اور جماعت کو تیار رہنا چاہئے کہ جب بھی خلفاء کی وفات ہو جماعت اس شخص پر جو سب سے بہترین خدمت دین کر سکے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے اور اس سے الہام پانے کے بعد متفق ہو جائے گی۔انتخاب خلافت سے بڑی آزمائش مسلمانوں کے لئے اور کوئی نہیں یہ ایسی ہے جیسے باریک دھار پر چلنا ذرا سا قدم لڑکھڑانے سے انسان دوزخ میں جا گرتا ہے غرض انتخاب خلافت سب سے بڑھ کر ذمہ داری ہے جماعت کو اس بارے میں اپنی ذمہ داری پہچانتی الفضل ۱۳۔جنوری ۱۹۳۱ء صفحه ۴۳) چاہئے۔“ اس خبر سے دشمن کے بد ارادوں میں ناکامی اور جماعت کو حاصل ہونے والے فوائد کی نشان دہی کرتے ہوئے مکرم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر مبلغ انچارج غانا کے نام اپنے ایک خط محرره ۶-۱۹۳۰۔۱۸ میں حضور تحریر فرماتے ہیں :- " ہندوستان کی حالت بدستور ہے وفات کی خبر اڑانے سے جہاں جماعت کو مالی طور پر نقصان ہوا وہاں روحانی طور پر فائدہ بھی ہوا۔جماعت میں اس واقعہ کی وجہ سے بیداری پیدا ہوگئی ہے۔جو لوگ خلافت کی اہمیت سے ناواقف تھے ان پر اس کی اہمیت اور عظمت ظاہر ہو گئی۔دشمن نے چاہا تھا کہ اس خبر کے اڑانے سے جماعت تتر بتر ہو جائے گی اس طرح سخت نقصان ہوگا لیکن