سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 560 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 560

502 تلاش کی تھی مگر وہ انگوٹھی نہ ملی۔جس کے بعد اسلام میں اختلافات اور کشت و خون کا دور شروع ہو گیا۔مگر آ نحضرت صلی اللہیہ آل وسلم کی بعثت ثانیہ میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا تو وہ انگوٹھی مل گئی جو اس بات کی تصویری زبان میں شہادت تھی کہ خلافت احمدیت کا سلسلہ منقطع نہ ہوگا۔مندرجہ ذیل واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضور ہر وقت تبلیغ و اشاعت کی طرف توجہ رکھتے تھے اور اس کے لئے نئے نئے طریق سوچتے رہتے تھے اور یہ بھی کہ ایک خادم سلسلہ جو میدانِ عمل میں شہید ہو گئے تھے حضور نے ہمیشہ یا د رکھا۔۱۹۴۶ء میں جب میں فوج کے ساتھ جاپان گیا تو حضور نے فرمایا اپنے ساتھ کسی احمدی مبلغ کو بطور اردلی لے جاؤ تا اس بہانے بغیر پاسپورٹ کے کوئی مبلغ وہاں پہنچ جاوے۔پھر فرمایا وہاں پر مولوی محمد دین صاحب کی تلاش ریڈ کراس کے ذریعہ ضرور کروانا شاید وہ جاپان کے قیدی ہوں اور شہید نہ ہوئے ہوں۔یہ بھی تاکید فرمائی کہ واپسی پر اپنے ساتھ ایک دولڑ کے جاپانی لے آنا جن کو قادیان میں تعلیم دے کر مبلغ بنایا جاسکے۔نومبر ۱۹۴۷ء میں ( ہجرت کے بعد ) میں نے اپنے بڑے لڑکے محمود داحمد کی شادی ( بموجب کشف حضرت مصلح موعود ) سادگی سے کر دی۔اس پر حضرت بہت خوش ہوئے اور فرمایا تم نے بہت اچھی مثال قائم کی ہے۔مندرجہ ذیل چھوٹے سے واقعہ میں سیرت کے متعدد پہلو سامنے آتے ہیں۔اگست ۱۹۴۹/۵۰ء میں حضرت کو ئٹہ تشریف فرما تھے اور حضور کو سخت اعصابی درد تھا آخر فیصلہ ہوا کہ C۔M۔H میں بجلی سے علاج ہو اس کے لئے DIATHERMY تجویز ہوا۔اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ مریض کے جسم پر کوئی دھات کی ھے نہ ہو۔مثلاً بٹن ، گھڑی، انگوٹھی وغیرہ حضور نے قمیض کے تمام بٹن اُتار دیے اور اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی انگوٹھی اُتاری۔میں سامنے کھڑا تھا اور حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب ذرا ہٹ کر کھڑے تھے میں نے ہاتھ بڑھایا اس امید پر کہ حضرت مجھے پکڑا دیں گے مگر حضرت نے آگے