سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 554
496 شاہنواز کے والد اس وقت عاجز فوج میں کیپٹن تھا اور کوئی صورت میجر ہونے کی نہ تھی۔کیونکہ کمیشن ایمر جنسی تھا (بوجہ جنگ عظیم ۱۱) اور جلد ہی فارغ ہونے کا امکان تھا۔عاجز واقعی فارغ کر دیا گیا اور ابھی کپتان ہی تھا میرے سب دوست حیران تھے یہ کب پورا ہوگا مگر مجھے یقین تھا کہ دوبارہ کمیشن ملے گا اور یہ پورا ہو کر رہے گا۔میرے لڑکے محمود احمد کو اتنا یقین تھا کہ وہ بول اُٹھا ابا حضور کا یہ کلام پورا ہو کر رہے گا خواہ خدا کو تیسری جنگ نہ کروانی پڑے۔مگر خدا نے تقسیم ہند کے بعد مجھے دوبارہ شارٹ سروس کمیشن پاکستان آرمی میں دے دیا اور میں آٹھ سال کے بعد میجر ہو کر ۱۹۵۵ء میں ریٹائر ہو گیا۔بوجہ پنشنز ہونے کے ابھی میرا نام آرمی لسٹ میں ہے۔میجر کا رینک لگانے کی اجازت ہے۔سال ۱۹۴۹/۵۰ کا واقعہ ہے کہ حضور کوئٹہ میں تھے۔عاجز بھی وہاں فوجی ہسپتال میں متعین تھا۔ایک دن حضور نے ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب سے دریافت فرمایا ” کیا ڈاکٹر صاحب کی تنخواہ ہزار روپیہ ہے۔ڈاکٹر صاحب نے عرض کی حضور پختہ معلوم نہیں وہ سینئر کیپٹن ہیں ۸،۷ سو ہوگی۔مجھ سے قبلہ ڈاکٹر صاحب نے ذکر کیا میں نے کہا آپ کا جواب درست ہے مگر اس دن سے مجھے یقین ہو گیا کہ میجر بنوں گا اور تنخواہ پوری ہزار روپیہ ہوگی۔مگر حساب کرنے پر معلوم ہوا کہ ۹۵۰ ہوگی کیونکہ ۰۰ے تنخواہ تھی اور Substantive میجر بننے پر صرف ۲۵۰ تر قی ملنی تھی۔خدا کی شان اس نے اپنے محبوب کی بات پوری کرنے کے لئے ساری فوج کو پچاس روپئے کا خاص الاؤنس دلوا دیا اور میری تنخواہ پوری ہزار روپے ہوگئی جو کہ بالکل نیا گریڈ تھا۔۱۹۲۷ء میں عاجز پہلی بار افریقہ روانہ ہوا تو حضور نے عاجز کو ۴۰۰ روپیه بطور قرضہ حسنہ دیا اس کی برکت سے پھر میں نے لاکھوں کمائے اور خدا کی راہ میں بھی دل کھول کر دیا مگر اپنی ذات پر بہت کم خرچ کرتا تھا۔جب پہلی بار واپس قادیان آیا تو حضور نے دیکھا کہ وہی سادگی ہے، کپڑے پرانے ہیں اور اس بات کو مجلس میں (بغیر نام لینے کے ) بیان فرمایا کہ بعض مخلص دوست خدا