سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 516 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 516

458 بیگم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب) اور کچھ وقت کے لئے صاحبزادی امة الرشيد صاحبه، صاحبزادی امتہ العزیز صاحبہ ( بیگم مرزا حمید احمد صاحب) مختصراً حضور کی سبھی صاحبزادیوں کو اس وقت سے پڑھانے کی سعادت پائی جب کہ ابھی ان کی شادیاں بھی نہیں ہوئی تھیں اور حضور کے ارشاد پر حضور کی بچیوں اور بیگمات کو گھر پر پڑھانے کا شرف ۱۹۳۰ء سے ۱۹۵۸ء تک جاری رہا۔اس عرصہ میں جو کم و بیش تمیں سال تک ممتد ہے مجھے حضور کو بحیثیت ایسے سر پرست کے دیکھنے کا موقع ملا جن کا اپنے بچوں کی تعلیم کے سلسلہ میں بچوں کے استاد سے واسطہ پڑتا ہے اور میری طبیعت پر بحیثیت استاد جواثر ہے۔وہ فی الجملہ یہ ہے۔کہ ان بچوں کے عظیم باپ نے اپنے بچوں اور بیگمات کے استاد سے ہمیشہ ہی نہایت محبت اور شفقت کا سلوک فرمایا اور متعلمین کرام بھی اپنے استاد سے نہایت ادب و احترام سے پیش آتے رہے۔مجھ سے حضرت سیده ام متین مدظلہا جس انس اور قدردانی کا سلوک کرتی ہیں اور کرتی رہی ہیں اس کی یاد میری زندگی کا سرمایہ ہے لیکن میں اس وقت ایک ایسا واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں جس کا تعلق حضور کے خُلق اور حضور کی نظر میں استاد کے مقام سے ہے۔۱۹۴۸ء میں ایک دفعہ جبکہ ہمارا سکول چنیوٹ آچکا تھا لیکن حضور ابھی رتن باغ لاہور میں ہی قیام پذیر تھے ایک روز میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ملاقاتیوں میں دیر سے پہنچنے کی وجہ سے میرا نمبر آخری تھا۔حضور کی ملاقات سے فارغ ہو کر میں نے سوچا کہ سیدہ حضرت اُم متین سلمہا اللہ سے بھی ملتا جاؤں۔وہ اوپر کی منزل پر رہائش پذیر تھیں سیڑھیاں چڑھ کر میں نے دروازہ پر دستک دی۔معلوم نہیں میری دستک کی آواز ان تک نہ پہنچی یا وہ کسی کام میں مصروف تھیں۔ایک دو منٹ تک دروازہ پر کوئی نہ آیا۔اتنے میں غیر متوقع طور پر حضور مکان کے اندر جانے کے لئے سیڑھیاں چڑھ کر اسی دروازہ پر آپہنچے اور مجھے دیکھ کر پوچھا ” ہیں، آپ کیسے؟ میں نے عرض کیا ” میں سیدہ ام متین کو سلام کرنے آ گیا ہوں، حضور نے فرمایا ” پھر دستک دی ہے، میں نے عرض کیا ”جی ہاں اس پر حضور نے دروازہ کھولتے ہی بلند آواز سے اندر کی طرف ,,