سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 499 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 499

441 والد صاحب کاغذی اخروٹ ، بادام اور شہد وغیرہ ہمراہ لے کر قادیان آئے تا کہ حضور کی خدمت میں پیش کریں اور مجھے اپنے ساتھ لے کر حرم اول محترمہ حضرت اُمم ناصر احمد صاحب کے مکان پر حاضر ہوئے۔اور زمینہ کے اوپر جا کر گٹھڑی میرے سر پر رکھ دی کہ اندر جا کر حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کر دو۔میری عمر اس وقت آٹھ یا دس برس کی ہوگی کیونکہ گٹھڑی کافی بھاری تھی۔لہذا میں بمشکل گھڑی لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی۔حضور اس وقت صحن میں ٹہل رہے تھے۔مجھے دیکھا اور مسکرا کر فرمایا کہ دیکھوں تم کب تک یہ وزن اٹھا سکتی ہو؟ مجھے نظر آ رہا ہے تمہاری ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔لیکن تمہارے والد صاحب کی یہ خواہش ہے کہ تم ہی اٹھا کر لے جاؤ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ تم کب تک برداشت کر سکتی ہو۔پھر حضور نے اُوپر سے ایک اخروٹ اُٹھا لیا اور ہاتھ سے توڑ کر کھانے لگے۔جب ہماری والدہ فوت ہو گئیں تو والد صاحب نے دوسری شادی کر لی اور دعوت ولیمہ میں حضرت اقدس حضرت قمر الانبیاء کے ساتھ تشریف لائے اور دعوت کے اختتام پر ہمارے والد صاحب نے مجھے اور میرے بھائی عبدالحئی کو حضرت صاحب کے سامنے پیش کیا اس وقت میں دس سال کی تھی اور میرا بھائی آٹھ سال کا تھا۔والد صاحب زار و قطار رو ر ہے تھے۔اور حضور کی خدمت میں عرض کی کہ حضور میرے یہ دو بچے میری ساری زندگی کی کمائی ہیں ان سے پہلے میری بہت سی اولا د فوت ہو چکی ہے اور اب ان کی والدہ کی وفات کی وجہ سے مجھے نکاح ثانی کرنا پڑا۔اس وقت والد صاحب نے رقت بھری آواز سے کہا کہ حضور ان کے لئے دعا فرماویں که سوتیلی والدہ کی وجہ سے انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے۔حضور نے از راہ شفقت والد صاحب کو دلاسا دیتے ہوئے فرمایا کہ بابو صاحب! آپ فکر نہ کریں۔خدا تعالیٰ ان کو ضائع نہیں کرے گا۔میں انشاء اللہ تعالیٰ دعا کروں گا۔حضور کی دعا کا یہ اثر تھا کہ ہماری یہ سوتیلی والدہ جب تک زندہ رہیں وہ ہم کو سوتیلا نہ سمجھتی تھیں اور نہ کبھی ہمارے خلاف حرف شکایت زبان پر لائیں اور می حض حضور کی دعا کا اثر تھا۔