سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 40
40 سے ہمیں اس قدر تعلق اور وابستگی ہے کہ اس پر حملہ کرنے والوں سے ہم کبھی صلح نہیں کر سکتے۔ہماری طرف سے بار بار کہا گیا ہے اور میں پھر دوبارہ ان لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری جنگل کے درندوں اور بن کے سانپوں سے صلح ہو سکتی ہے لیکن ان لوگوں سے ہر گز نہیں ہو سکتی جو رسول کریم صل اللہ اور مسلم کو گالیاں دینے والے ہیں۔بے شک وہ قانون کی پناہ میں جو کچھ چاہیں کر لیں اور پنجاب ہائی کورٹ کے تازہ فیصلہ کی آڑ میں جس قدر چاہیں ہمارے رسول کریم صلی اللملی و آلہ وسلم کو گالیاں دے لیں لیکن وہ یاد رکھیں کہ گورنمنٹ کے قانون سے بالا اور قانون بھی ہے اور وہ خدا کا بنایا ہوا قانونِ فطرت ہے۔وہ اپنی طاقت کی بناء پر گورنمنٹ کے قانون کی زد سے بچ سکتے ہیں لیکن قانونِ قدرت کی زد سے نہیں بچ سکتے۔اور قانونِ قدرت کا یہ اٹل اصل پورا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جس کی ذات سے ہمیں محبت ہوتی ہے اُسے بُرا بھلا کہنے کے بعد کوئی شخص ہم سے محبت اور صلح کی توقع نہیں رکھ سکتا۔الفضل ۱۰۔جولائی ۱۹۲۷ ، صفحہ ۷۶ ) دل سے نکلی ہوئی پر اثر تحریر سے سارے ملک کے مسلمانوں میں بیداری کی ایک لہر پیدا ہوگئی ۲۲۔جولائی کو ملک بھر میں احتجاجی جلسے ہوئے اور قراردادیں منظور کی گئیں۔مسلمانوں کی عام بیداری سے کوئی جماعتی یا وقتی فائدہ اٹھانے کی بجائے حضور نے قومی سطح پر مندرجہ ذیل نہایت مفید اقدامات کی تحریک فرمائی۔ا۔اول یہ کہ آپ خشیت اللہ سے کام لیں گے اور دین کو بے پروا ہی کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔۲۔دوسرے یہ کہ آپ تبلیغ اسلام سے پوری دلچسپی لیں گے اور اس کام کے لئے اپنی جان اور اپنے مال کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔اور تیسرے یہ کہ آپ مسلمانوں کی تمدنی اور اقتصادی غلامی سے بچانے کے لئے پوری کوشش کریں گے۔(الفضل ۱۰۔جون ۱۹۲۷ ء صفحہ ۸) آریوں سے عام مقابلہ کا اعلان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: موجودہ حالت کو مدنظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جہاں کہیں بھی آریوں کے مقابلہ کی ضرورت ہو یا اسلام کی تائید میں لیکچر دلانے کی ضرورت