سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 470
412 شرف نیاز حاصل کرنے کے لئے جمع تھے۔حضور نے سب کو مصافحہ کرنے کا موقع عطا فر مایا اور پھر فرش مسجد پر بیٹھ گئے۔چونکہ مجمع زیادہ تھا اور سب احباب حضور کی زیارت نہ کر سکتے تھے اس لئے یہ خواہش کی گئی کہ حضور کرسی پر رونق افروز ہوں لیکن جب کرسی لائی گئی اور حضور سے اس پر بیٹھنے کے لئے عرض کیا گیا تو حضور نے پسند نہ فرمایا۔احباب کے اشتیاق کو دیکھ کر جب پھر کرسی پر بیٹھنے کیلئے عرض کیا گیا تو حضور نے فرمایا میں یہ تو پسند نہیں کرتا کہ سب احباب فرش پر بیٹھے ہوں اور میں کرسی پر بیٹھوں لیکن چونکہ احباب کی خواہش ہے کہ مجھے دیکھ سکیں اس لئے میں کھڑا ہو جاتا ہوں اور باوجود اس کے کہ بیماری کی اور وجہ سے میری صحت کمزور ہے اور میرے لئے تقریر کرنا مشکل ہے مگر احباب کو کچھ سنا بھی دیتا ہوں۔چنانچہ حضور نے کھڑے ہو کر آیت لَا يَمَسُّةً إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کی نہایت لطیف تفسیر بیان فرمائی الفصل۲۲۔جنوری ۱۹۲۹ء صفحہ ۱) ایسا ہی ایک اور ایمان افروز واقعہ پیش خدمت ہے:۔۲۷۔جنوری ۱۹۲۸ء چوہدری فتح محمد صاحب ایم اے کے ہاں دعوت ولیمہ تھی جس میں اکثر معززین جماعت اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ مدعو تھے جس کمرہ میں نشست کا انتظام تھا وہاں دولکڑی کے تخت بچھے تھے جن پر حضرت اقدس کے لئے نشست گاہ بنائی گئی اور چونکہ وہ کافی لمبے چوڑے تھے اس لئے حضور کے ساتھ اور بھی کئی اصحاب بیٹھ سکتے تھے۔باقی کمرہ میں دیگر اصحاب کے بیٹھنے کے لئے فرش کیا گیا۔لیکن جب حضور کمرہ میں تشریف لائے اور اس جگہ رونق افروز ہونے کی درخواست کی گئی تو حضور نے یہ دیکھ کر کہ وہ جگہ کمرہ کے دوسرے فرش سے کسی قدر اونچی ہے وہاں بیٹھنا پسند نہ کیا اور فرمایا اور دوست نیچے بیٹھیں تو میں اوپر کس طرح بیٹھ سکتا ہوں اور نچلے فرش پر بیٹھ گئے“ الفضل ۳۱۔جنوری ۱۹۲۸ء صفحه ۲) مکرم مرزا رفیق احمد صاحب ( ابن حضرت فضل عمر ) بیان کرتے ہیں کہ :۔حضور کے کمرہ میں خاندان کے کسی فرد کی خواہش پر قالین بچھوایا گیا۔