سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 467 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 467

409 ٹانگہ فوراً امرتسر پہنچیں ، اور مجھے رہا کرانے کی کوشش کریں۔اگر کامیابی نہ ہو ، تو سید عبدالحمید صاحب جو ریلوے پولیس میں ڈی۔ایس۔پی تھے اور لاہور میں ان کا قیام تھا ان کے پاس پہنچ کر میری رہائی کے بارے میں کوشش کریں۔شیخ صاحب مذکور نے رات کے وقت امرتسر پہنچنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔پھر شیخ صاحب لاہور پہنچے اور سید عبدالحمید صاحب ڈی۔ایس۔پی کو ساتھ لے کر امرتسر آئے۔سید صاحب نے پولیس انچارج کو حکم دیا کہ وہ راولپنڈی سے معلوم کریں کہ اس نام کا کوئی آدمی امرتسر گیا ہے اور یہ کہ وہ کہاں پہنچا ہے۔وہاں سے معلوم ہوا کہ اس نے گولڑہ کے لئے گاڑی تبدیل کر لی ہے۔گولڑہ ریلوے پولیس کو تار دی گئی کہ مذکورہ شخص جب گاڑی پہنچنے پر ملے تو اُس کو حکم دیا جائے کہ واپس امرتسر پہنچ کر جس کیس کو حوالہ پولیس کر آیا ہے اس کی پیروی کرے مگر اُس نے واپس آ کر پیروی کرنے سے انکار کر دیا اور گولڑہ جنکشن کی ریلوے پولیس کا جواب آنے پر پولیس امرتسر نے مجھے رہا کر دیا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ - خاکسار اور شیخ صاحب مرحوم عصر کے وقت قادیان پہنچے اور حضور نے خاکسار کے سلامت پہنچنے پر شکر گزاری کا سجدہ ، نماز عصر کے بعد ادا کیا۔یہ واقعہ بتاتا ہے کہ حضور کو ابتداء سے ہی جماعت کا کس قدر خیال اور ہمدردی تھی۔اللہ تعالیٰ کی ہزار ہزار رحمتیں حضور مغفور کی روح پر نازل ہوں آمین ایک دوسرا واقعہ یہ ہے کہ میں چھاؤنی نوشہرہ سے کچھ دنوں کی رخصت لے کر قادیان آیا تھا۔میری بیوی کے گلے میں خنازیر کی گلٹیاں تھیں جن کا آپریشن کروا کر خارج بھی کروا دی گئیں تھیں مگر پھر نمودار ہو گئیں۔حضرت ام طاہر محترمہ مریم کے ساتھ ہمارے پرانے تعلقات تھے میری بیوی جب ان سے ملیں تو انہوں نے کہا کہ حضرت صاحب اس مرض کا علاج کرتے ہیں اور حضور کوئی مرہم استعمال کرنے کے لئے دیں گے۔میں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا۔ارشاد فرمایا کہ میں نے تو اس مرض کا کبھی کوئی مرہم تیار نہیں کیا اور نہ ہی علاج کیا ہے۔میں نے عرض کیا کہ حضور کی معمولی سی توجہ سے شفاء ہو جائے گی۔حضور کے پاس ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ارشاد