سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 465
407 بسہولت سوار ہو جائیں تو حضور روانہ ہوں۔اگر راستہ میں کوئی گاڑی پیچھے رہ جاتی تو آپ پورے قافلہ کو روک لیتے اور اس وقت تک آگے نہ جاتے جب تک پیچھے آنے والی گاڑی یا خدام ساتھ شامل نہ ہو جاتے بعض ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ حضور کو دورانِ سفر یہ علم نہ ہو سکا کہ کوئی ساتھی پیچھے رہ گیا ہے لیکن منزل پر پہنچ کر جب یہ پتہ چلا کہ قافلہ میں سے کوئی پیچھے رہ گیا ہے تو حضور اُس وقت تک اندرونِ خانہ تشریف نہیں لے گئے جب تک پیچھے رہ جانے والے نہ آ جاتے بلکہ بعض دفعہ تو ایسے بھی ہوا کہ حضور نے سارے قافلہ کو واپسی کا حکم دیا اور پیچھے رہ جانے والے ساتھی کو ہمراہ لے کر واپس تشریف لائے۔اسم باستمی محمود نے ایک موقع پر اپنے نقادوں اور مخالفوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ:- اگر اسلام میں خود کشی حرام نہ ہوتی تو میں اسی وقت جماعت کے ایک سو نو جوانوں کو اپنے سامنے یہاں بلا تا اور انہیں اپنے آپ کو قتل کرنے کے لئے کہتا تو آپ دیکھتے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی تعمیل حکم میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا اظہار نہ کرتا۔“ بات کو سمجھانے کے لئے یہ حضور کا ایک بہت پیارا انداز تھا اور اس میں ہر گز کوئی مبالغہ نہ تھا کیونکہ جماعت کے نوجوانوں نے عملی طور پر ایسا بلکہ اس سے بھی زیادہ قربانی کا اس وقت مظاہرہ کیا جب انہیں وقف کے لئے بلایا گیا۔وقف کی تحریک پر بیوہ ماؤں نے اپنے اکلوتے بیٹے پیش کرنے میں کسی پس و پیش سے کام نہ لیا۔ہزاروں نوجوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کر کے عملاً دنیا کی آسائشوں سے منہ موڑ کر اپنے جذبات کی مسلسل قربانی پیش کرنے کو اپنی زندگیوں کا شعار بنالیا اور یہ قربانی یقیناً اس قربانی سے کسی طرح کم نہیں کہ کوئی شخص کسی وقتی جذباتی جوش میں اپنی جان قربان کر دے۔مذہبی آمر کا الزام لگانے والے اپنے اس الزام سے جماعت کی روح قربانی سے عدم واقفیت کا اقرار کرنے کے علاوہ مذکورہ قرآنی دلیل کی عملا تردید کرتے ہیں۔د میں ہمیشہ آپ سے اپنی بیویوں اور بچوں سے زیادہ محبت کرتا رہا ہوں اور اسلام اور احمدیت کی خاطر اپنے ہر قریبی اور ہر عزیز کو قربان کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہا ہوں۔میں آپ سے اور آپ کی آنے والی نسلوں سے بھی یہی توقع رکھتا ہوں کہ آپ بھی ہمیشہ اسی طرح عمل کریں گے“