سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 440 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 440

397 خوبصورت اور صحت افزا ماحول میں، بہت اچھی لگتی تھیں۔اس مقام پر حضور نے تفسیر صغیر کا کام کیا۔خاکسار نے ایف۔ایس۔سی کا امتحان دیا تھا۔حضور جب نخله تشریف لے جانے لگے خاکسار کو بھی فرمایا کہ تمہیں رخصتیں ہیں ساتھ چلو۔حضور کی اس مہربانی سے بہت خوش ہوا۔وہاں حضرت امی جان کے ہاں حضور کے ساتھ ہی کھانا ہوتا تھا۔حضور اصرار سے کھلاتے اور پھر حضرت امی جان ( أم ناصر ) سے فرماتے یہ تمہارا بھتیجا ہی نہیں میرا مہمان بھی ہے خاص خیال رکھنے کو فرماتے۔حضرت اُمی جان جو پہلے ہی بہت مہربان تھیں مزید احسان فرماتیں حضور فرماتے جو خاص آم منگوائے ہیں وہ صباح الدین کو کھلا ؤ۔حضور اتنا خیال رکھتے کہ میں سخت شرمندگی محسوس کرتا۔برادرم صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب اور برادرم صاحبزادہ مرزا رفیق احمد صاحب وہیں تھے ان کے ساتھ خوب سیر و تفریح ہوتی شکار بھی کھیلتے انہی دنوں ایف ایس سی کا نتیجہ آگیا میں فیل ہو گیا۔حضور سے ڈانٹ پڑی اس غم اور افسوس سے بستر سے لگ گیا بخار بھی ہونے لگا۔میاں رفیق احمد صاحب نے بہت زور لگایا لیکن اُٹھنے کی ہمت نہ ہوئی۔کھانا بھی میاں صاحب کمرے میں لے آتے۔تیسرے روز ایک دم دروازہ کھلا تو حضور کو دیکھ کر چونک گیا فوراً بستر سے اُچھل کر کھڑا ہو گیا۔ظہر کا وقت تھا۔وہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے ہے فرمایا تم نماز کے لئے مسجد میں بھی نہیں آتے۔چلو میرے سامنے وضوء کرو۔خاکسار نے وضوء کیا حضور وہیں کھڑے رہے مجھے ساتھ لے کر نماز پڑھانے تشریف لے گئے۔نماز کے بعد مجھے یاد فرمایا اور پرائیویٹ سیکرٹری مکرم عبدالرحمن انور صاحب مرحوم کو بلا کر فرمایا۔دیکھیں یہ کتنا کمزور اور زرد ہو گیا ہے۔سکیسر میں ایک ہفتہ کے لئے ریسٹ ہاؤس ریز رو کروائیں۔اس کو ساتھیوں سمیت وہاں بھیجوانے کا انتظام کریں۔حضور نے گاڑی ( جیپ ) اور تمام ضروریات کا انتظام فرمایا۔وہاں ہم لوگ سکیسر جیسی خوبصورت جگہ پر جو پانچ ہزار فٹ کے قریب بلند ہے ایک ہفتہ رہے۔خوب سیریں کیں جب واپسی ہوئی حضور دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا ہاں کافی فرق پڑ گیا