سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 399
356 تقریر کرنے کے لئے ہدایات تقریر کرنا آپ نے خود سکھایا میری شادی کے بعد پہلا جلسہ سالانہ یا غالباً دوسرا تھا آپ نے مجھ سے خواہش ظاہر کی کہ میں بھی جلسہ سالانہ کے موقع پر تقریر کروں۔میں نے اس سے قبل کبھی تقریر کیا مضمون بھی لکھ کر نہیں پڑھا تھا میں نے عرض کی آپ لکھ دیں میں پڑھ دوں گی۔فرمایا۔یہ غلط ہے اس طرح کبھی تمہیں تقریر کرنی نہیں آئے گی۔اس موضوع پر میں تمہارے سامنے تقریر کرتا ہوں تم غور سے سنوضروری حوالہ جات وغیرہ نوٹ کرو اور پھر انہی نوٹوں کی مدد سے تم تقریر کرو میں سنوں گا۔غرض آپ نے اس موضوع پر جو اب مجھے یاد نہیں رہا تقریر فرمائی اور پھر جو میں نے آپ کی تقریر کے نوٹ لئے تھے وہ دیکھے ان میں اصلاح فرمائی اور ان پر از سر نو مضمون تیار کر کے تقریر کرنے کے لئے کہا چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔اس طرح آہستہ آہستہ مشق ہوتی گئی۔ہر جلسہ سالانہ کے موقع پر جب آپ تقریر فرمانے کے لئے جانے لگتے تو کہا کرتے تھے کہ میری تقریر کے نوٹ ضرور لینا میں آکر دیکھوں گا۔اس ضمن میں ایک لطیفہ بھی یاد آ گیا۔حضور کی صاحبزادی امتہ العزیز کو جب پہلی بار حضور کی جلسہ سالانہ کی تقریر اچھی طرح سمجھ آئی اور لطف آیا تو گھر آ کر کہنے لگی کہ ابا جان کو بھی تقریر کرنی آ گئی ہے انہوں نے لطیفہ سنا تو بہت ہنسے کہنے لگے معلوم ہوتا ہے آج اسے پہلی بار میری تقریر سمجھ آئی ہے اس کے نزدیک تو آج ہی مجھے تقریر کرنی آئی ہے۔حضور کی تقریروں کے نوٹ لے لے کر خدا تعالیٰ کے فضل سے تیز لکھنے کی عادت پڑی۔اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ کتنا ہی تیزی سے مضمون لکھواتے تھے لکھ لیتی تھی۔سب سے پہلی دفعہ آپ نے اپنی جس تقریر کے نوٹ مجھے املاء کروائے تھے وہ ” نظام نو“ والی تقریر تھی آپ لکھواتے گئے میں لکھتی گئی۔جب نوٹ مکمل ہو گئے تو فرمانے لگے کچھ سمجھ آیا میں نے جو کچھ آپ نے لکھوایا تھا وہ بتانا شروع کیا کہنے لگے نہیں یہ تو تمہیدیں ہیں یہ قرآن مجید احادیث کے حوالہ جات ہیں ان سے میں کس مضمون کی طرف آنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا یہ تو سمجھ نہیں آئی کہنے لگے یہی تو کمال ہے کہ سارا مضمون اشاروں میں لکھوا گیا مگر تم بتا نہ سکیں کہ کیا موضوع میری تقریر کا ہوگا۔میں نے کہا پھر بتا ئیں۔کہنے لگے نہیں اب جلسہ پر ہی سننا۔آپ کی تمام زندگی قرآن مجید کی آیت اِنَّ صَلوتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : ۱۶۳) کے مطابق گزری ہے۔آپ کی تمہیں سالہ رفاقت میں میں نے تو یہی مشاہدہ کیا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی ہستی پر جیسا عظیم الشان ایمان تھا وہ سوائے انبیاء کے اور کسی