سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 395 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 395

352 دیا ہوا ہے جان اور ایک چیز سب سے عزیز 66 میں نے ویسی فجر کی نماز ساری عمر نہ پڑھی تھی۔اُف وہ خوشی وہ عجیب اور نئی قسم کی خوشی وہ لازوال اور لا انتہاء خوشی میرا ہر ذرہ تن قریب تھا کہ اس خوشی سے پھٹ جائے یا شادی مرگ ہو جائے زہے نصیب وہ اور مجھے اپنا چہرہ دکھا ئیں وہ اور مجھ سے میری جان کا مطالبہ کریں۔وہ اور مجھ سے ایک عزیز چیز کی نذر طلب کریں۔۔۔دن کے آٹھ نہیں بجے تھے کہ ایک سیاہ بکرا اور ایک سفید مینڈھا کوچہ بندی میں کٹے پڑے تھے اور عالم روحانی میں ان کے ساتھ دو اور نفس بھی ذبح ہو چکے تھے۔اور بارہ نہیں بجے تھے کہ میری سب سے عزیز چیز یعنی مسجد مبارک والا مکان میرے قبضہ سے نکل کر صدرانجمن کی تحویل میں منتقل ہو چکا تھا۔ان باتوں سے فارغ ہو کر گھر گیا تو ایک اور عزیز چیز نظر آئی جس کا نام مریم صدیقہ تھا۔میں نے اسے اُٹھا کر کہا کہ اس کا نام ہی شاہد ہے۔میرا پہلے سے بھی ارادہ تھا۔اب اسے بھی قبول فرمائے رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔۱۹۲۱ء پر چودہ سال گزر چکے مسلسل چودہ سال ( یہ واقعہ ۱۹۲۱ء کا تھا) بیم ورجا کے کہ آیا کچھ قبول بھی ہوتا ہے یا نہیں۔بہر حال ۱۹۳۵ء میں خدا تعالیٰ کا بڑا فضل ہوا کہ آخری نذر کو ان کے ایجنٹ ۳۰۔ستمبر یوم دو شنبہ کو آکر میرے ہاں سے اُٹھا کر لے گئے۔میں نے سجدہ ادا کیا“ میری شادی ۳۰۔ستمبر ۱۹۳۵ء کو ہوئی تھی۔(الفضل ۳۔نومبر ۱۹۳۶ء) اس اقتباس کو درج کرنے سے یہ بتانا مقصود تھا کہ میرے ابا جان نے میرے پیدا ہوتے ہی مجھے خدا تعالیٰ کے حضور وقف کر دیا تھا اور پھر یہ وقف رسمی وقف نہ تھا۔ان کی شدید خواہش تھی کہ میں جو ان کی اولاد میں سب بڑی تھی دین کی خدمت کروں۔اور اللہ تعالیٰ ان کی اس قربانی کو قبول فرمائے۔سو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ نہ صرف اس نے ان کی قربانی کو شرف قبولیت عطا فرمایا بلکہ مجھے ایک لمبے عرصے تک حضرت مصلح موعود کی خدمت کا موقع عطا فرمایا اور کسی حد تک سلسلہ کی خدمت کا بھی۔اللہ تعالیٰ سے میری بھی یہی دعا ہے کہ وہ مجھے اپنی بقیہ زندگی کو اسلام احمدیت اور