سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 388
345 لئے کی جارہی ہے تو خدا تعالیٰ سے یہ بھی دعا ہے کہ وہ اس شادی کو میرے لئے بھی مبارک کرے۔۔۔۔۔پھر وہ اس کمزور اور متروک صنف کے لئے بھی جو عورتوں کی صنف ہے مبارک کرے جس کے حقوق سینکڑوں سال سے تلف کئے جارہے ہیں۔۔۔۔خدا تعالیٰ موت سے پہلے مجھے یہ بات دکھا دے کہ اسلام دنیا میں ہر طرف غالب ہو رہا ہے۔۔۔۔۔میں اس نکاح کا اعلان خود کرتا ہوں۔عام طور پر یہ بات رسم و رواج کے خلاف ہے کہ جس کا نکاح ہو وہی اعلان کرے مگر میرے دل کے غم نے مجھے مجبور کیا کہ میں خود کھڑا ہو کر اعلان کروں اور ان جذبات اور خیالات کا اظہار کروں جو میرے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا تھا مگر یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔میں جن بزرگوں کی جوتیاں جھاڑنے کی بھی قابلیت نہیں رکھتا انہوں نے اپنے نکاح کا اعلان خود کیا ہے۔میں خدا تعالیٰ کے ان جرنیلوں کی تقلید میں اور ان بزرگوں سے تیمّنا اور تبرکا نسبت کرتے ہوئے اس امید سے کہ اللہ تعالیٰ اس نکاح کو بابرکت کرے خود اعلان کرتا ہوں“ خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۲۰۶ تا ۲۰۹) حضرت عزیزہ بیگم صاحبہ یکم فروری ۱۹۲۶، بروز دوشنبه حضرت عزیزه بیگم صاحبه بنت محترم سیٹھ ابوبکر صاحب جدہ سے حضور کا نکاح ہوا اس تقریب پر پر حضور نے جو خطاب فرمایا اس میں اس شادی کا پس منظر بیان کرنے کے علاوہ بعض اور ضروری امور کی بھی وضاحت فرمائی الفضل میں حضور کا یہ خطاب ” چند ضروری باتیں“ کے عنوان سے شائع ہوا۔حضور فرماتے ہیں:- ۱۹۱۴ء میں جب میری شادی امتہ اٹھی مرحومہ سے ہوئی تھی اُس وقت مکرمی ابوبکر صاحب جمال یوسف تاجر جدہ نے مجھے لکھا تھا کہ جب سے میرے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے میری خواہش تھی کہ میں اس کی شادی آپ سے کروں لیکن اس خیال سے کہ شاید آپ کو نکاح ثانی پسند نہ ہو خاموش تھا لیکن اب جبکہ آپ نے دوسری شادی کر لی ہے میں اس خواہش کا اظہار کر دیتا ہوں۔میں نے انہیں تو کوئی جواب نہ دیا لیکن چونکہ میرا ہوش سنبھالتے ہی یہ خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش کو کہ مسلمانوں کی ////