سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 359
315 آثار ہی کچھ اور ہیں اور حضرت مولوی صاحب کی خلافت تو چند روزہ بوجہ ضعیف العمری عقلاً سمجھی جاسکتی ہے۔اگر اس ستارہ کی روشنی اس طرح بڑھتی گئی تو یہ ماہ تاباں بن کر ہم سب کو ماند کر دے گا۔یہ تو ہم بزرگوں، تجربہ کاروں پر ایک کاری ضرب ہوگی۔یہ ہم کیا کر بیٹھے ہیں۔ان خیالات کے زیر اثر کچھ ترکیبیں، کچھ عُذر ، کچھ بہانے دل بہلانے کو سو جھنے لگے۔چلو کیا ہو گیا ایک بار بیعت ایک بزرگ کی کر لی آئندہ دیکھا جائے گا۔مگر ابھی سے بیج تو بونے چاہئیں۔سو اندرونی خیال کا اظہار ہونے بھی لگا اور بات پھوٹنے لگی تو اندر ہی اندر کھلبلی سی سچ گئی۔آپ تک بات پہنچتی ، پریشان ہوتے ، دعائیں کرتے میرے میاں سے اکثر باتیں اسی موضوع پر ہوتیں۔آپ کو تڑپ تھی کہ جماعت میں فتنہ نہ ہو سخت اضطراب تھا کہ کوئی پھوٹ نہ پڑے۔خلیفہ اول سے آپ کو بہت زیادہ محبت تھی اور خود خلیفہ اول کو تو آپ سے گویا عشق تھا آپ کو یہ دکھ بھی ہوتا کہ خلیفہ المسیح کی زندگی میں آئندہ کا ذکر اور قیاسات بھی کوئی کیوں کرتا ہے۔آپ حضرت خلیفہ اول کا محبت کے ساتھ بہت ادب بھی کرتے تھے ادب سے کلام کرتے تھے۔حالانکہ آپ بہت محبت بچپن سے کرتے آئے تھے فرماتے تھے کہ کئی اولادوں کی وفات کے بعد یہ عبدالحئی اور اولاد میں خدا تعالیٰ نے مجھے دی ہیں مگر محمود مجھے ان سب سے زیادہ پیارا ہے“ یہ بات میرے سامنے کئی بار کی گئی ہے۔اس بچپن کے پیار کے باوجود آپ خلیفہ اول کے سامنے بہت مؤدب ہوتے تھے۔آپ (خلیفہ اوّل) کی وفات کے بعد مجھے چند روز کے بعد ہی کہا کہ ایک دفعہ خلیفہ اول نے کہا تھا کہ میرا کوئی ظاہری رشتہ حضرت مسیح موعود کے خاندان سے نہ ہو سکا تو میری خواہش ہے کہ آپ کی وہ تمنا اب میں پوری کروں اور امۃ الحئی کے لئے درخواست رشتہ بھیجوں۔خیر پھر تحریک ہوئی اور شادی ہو گئی۔امتہ الحئی بہت چاہنے والی ، بہت تابعدار بیوی ثابت ہوئیں۔ذہانت تو غضب کی پائی تھی اشارہ بات کا پا جاتی تھیں اشعار سے بھی دلچسپی تھی۔ایک خط