سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 317 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 317

283 احمدیہ شامل ہوئے۔اسی طرح دوسری جگہوں میں بھی میں نے دیکھا کہ شرفاء، آفیسر، ججز ، اور بڑے بڑے اُمراء ان دعوتوں میں شریک ہوتے رہے اور میں دیکھتا رہا کہ اُن کے دلوں میں یہ احساس ہے کہ احرار کی طرف سے ہم پر سخت مظالم توڑے گئے ہیں بلکہ بہتوں نے بیان بھی کیا کہ ہم تسلیم کرتے ہیں جماعت احمد یہ مسلمانوں کی خیر خواہی کیلئے بہت کچھ کر رہی ہے۔اسی طرح دہلی میں جو ایک دو تقریبات ہوئیں اُن میں میں نے دیکھا کہ شہر کے ہر طبقہ کے لوگ اور بڑے بڑے رؤساء شامل ہوتے رہے۔مسلمانوں میں سے زیادہ اور ہندوؤں اور سکھوں میں سے قلیل اور یہ قدرتی بات ہے کہ جس شخص کے اعزاز میں کوئی تقریب پیدا کی جائے گی اس میں وہی لوگ زیادہ بلائے جائیں گے جو اُس کے ہم مذہب ہوں گے۔پس ان دعوتوں میں ہر طبقہ کے لوگ شامل ہوئے اور اُن کی باتوں سے میں نے معلوم کیا کہ درحقیقت احرار کا یہ دعویٰ کہ اُن کا مسلمانوں پر بہت بڑا اثر ہے اور یہ کہ وہ گند جسے شرافت برداشت بھی نہیں کر سکتی مسلمانوں کے دلوں میں گھر کر چکا ہے یہ بالکل غلط ہے۔اور اس طرح میرے ان خیالات کا ازالہ ہو ا جو شرفاء کے متعلق میرے دل میں پیدا ہو چکے تھے اور میں نے سمجھا کہ ان ایام میں مسلمان خاموش رہے تھے تو محض مخالفت کی ہلیت کی وجہ سے۔نہ اس وجہ سے کہ احرار کا اُن کے دلوں پر کوئی اثر ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے بدھنی کے گناہ سے بچالیا۔مجھے پرسوں اُترسوں ہی حیدر آباد سے ایک معزز آدمی کا خط ملا ہے۔وہ لکھتا ہے میں خود آپ سے ملنا چاہتا تھا کہ دیکھوں تو جس شخص کی اس قدر تعریف اور اس قدر مذمت ہوتی ہے وہ ہیں کیسے۔خیالات ہر شخص کے مختلف ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے جو چاہے آپ کے متعلق کہہ لیا جائے مگر اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آپ کے اخلاق اور آپ کی محبت نا قابلِ اعتراض اور قابلِ تقلید ہے۔یہی اثر میں سمجھتا ہوں عام طور پر دوسرے لوگوں کے دلوں پر بھی تھا اور بجائے اسکے کہ وہ اس گند سے متاثر ہوتے سوائے چند لوگوں کے باقی تمام شرفاء صورتِ حال کو حیرت سے دیکھتے تھے اور خواہش رکھتے تھے کہ ہم معلوم کریں یہ کیسی جماعت ہے اور اس کا امام کیسا