سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 21
21 بعد ہمارے سپر د مختلف ڈیوٹیاں کر دی گئیں اور جگہیں مخصوص کر دی گئیں۔مجھے ایک ایسی پارٹی کا انچارج بنایا گیا جو دور پورٹروں اور نصف درجن ایسے بچوں پر مشتمل تھی جنہیں پیغام رسانی کا کام کرنا تھا۔ہمیں علماء کے سارے اجلاسوں میں حاضر رہنا تھا۔چونکہ علماء پورے زور سے قادیان میں جمع ہو گئے تھے اس لئے ان کے اجلاس روزانہ قبل از صبح سے لیکر کافی رات گئے تک جاری رہتے۔ماسوائے کھانے اور نمازوں کے لئے دو پہر اور بعد از دو پہر کے دو مختصر وقفوں کے۔ایک مجسٹریٹ اور چند ایک سپاہی بھی اجلاسوں میں ڈیوٹی پر تھے میری ڈیوٹی میں یہ بھی شامل تھا کہ اگر کوئی مقرر قابل اعتراض یا اشتعال انگیز بات کہے تو میں مجسٹریٹ کی توجہ کو اس طرف مبذول کراؤں۔غیر معمولی محنت اور ذمہ داری ان دو وقفوں میں مجھے حضرت صاحب کو رپورٹ دینے ، بسرعت کھانے سے فراغت حاصل کرنے اور نمازوں میں شمولیت کے لئے واپس آنا ہوتا تھا۔بعض اوقات آدھی رات کے بعد حضرت صاحب تمام مخصوص جگہوں اور پوسٹوں کی رپورٹیں سنتے اور پھر مشورہ فرماتے اور ضروری ہدایات سے نوازتے پھر آپ یہ تسلی کرنے کے لئے چیک پوسٹوں کا دورہ فرماتے کہ سب ٹھیک ٹھاک ہے۔قدرتی طور پر ہماری تمام تر توجہ اور نظر کا مرکز قبرستان تھا۔قادیان کے رہائشی علاقے اس وقت بھی دور و نز دیک بکھرے ہوئے تھے اور حفاظتی اقدامات خصوصاً پیغام رسانی رابطہ وغیرہ کے سلسلہ میں خاصے محنت طلب تھے یہ انتظام کیا گیا تھا کہ ہمارے افراد میں سے کوئی بھی علماء کے جلسہ کی جگہ تک نہیں پہنچ سکتا تھا کہ مبادا کوئی تنازعہ یا جھگڑا رونما ہو جائے اور کسی خطرہ وغیرہ کی صورت میں رضا کاروں کو فوراً چیک پوسٹوں کی طرف ہدایات حاصل کرنے کے لئے روانہ کر دیا جاتا اور جنکے مطابق نہایت ہوشیاری و مستعدی سے عمل درآمد کیا جاتا۔بعض دوسرے احباب کے ساتھ مجھے بھی دوروں میں حضرت صاحب کے ہمراہ ہونے کی اجازت تھی اور یہ میرے لئے بہت ہی خوشکن اور حوصلہ افزا تجربہ تھا۔بعض نہایت محترم بزرگ اور اہل علم حضرات مثلاً سید سرور شاہ صاحب