سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 296 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 296

274 ہے کہ اس طرح ہمیں ان کے حالات سے واقفیت ہوتی رہے۔بظاہر ان کے خطوط میں معمولی معمولی باتیں ہوتی ہیں مگر ہم ان سے بہت سے اہم امور اخذ کر لیتے ہیں حتی کہ دعائیہ خطوط سے بھی بہت سی ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں مل جاتی ہیں جن کو جمع کر کے ایک اہم واقعہ بن جاتا ہے جس سے ہم یہ اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ امور کسی اتفاقی حادثہ کے نتیجہ میں نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی ہوئی سازش کا نتیجہ ہیں جو ہمارے خلاف حکومت کی طرف سے یاکسی اور عصر کی طرف سے کی جارہی (الفضل ۱۸/ نومبر ۱۹۴۶ء صفحه ۳) ہے حضور کی فراست فرمایا: - اُس وقت ابھی فاسٹ پارٹی کا پوری طرح غلبہ نہیں ہوا تھا جس کا علم ہمیں اس طرح ہوا کہ فاسٹ پارٹی کا یہ نشان تھا کہ وہ سیاہ قمیص پہنتے تھے مگر میں نے روم، دنیس وغیر اٹلی کے شہروں میں دیکھا کہ بہت کم لوگ تھے جو سیاہ قمیص پہنے ہوئے تھے یا سیاہ ٹائی یا بیج لگائے ہوئے تھے۔۔وینس میں صرف ایک ہی سٹرک ہے جو کہ تین چار میل لمبی ہے۔۔۔۔چونکہ وینس میں ایک ہی سڑک ہے اس لئے شام کے وقت سارا شہر سیر کے لئے وہاں آ جاتا ہے اور وہاں سے انسان بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے کہ کسی سوسائٹی کے کتنے افراد ہیں مجھے یاد ہے کہ سینکڑوں میں سے ایک دو سیاہ قمیص یا ٹائی یا بیچ والے تھے باقی لوگ عام طور پر دوسر الباس (الفضل ۲۸ مئی ۱۹۴۵ ء صفحه ۱) پہنتے تھے حضور کی ذہانت وجودت طبع فرمایا : - دنیا کی آبادی دوارب ہے اور چالیس کروڑ ہندوستان کی آبادی ہے۔اگر تمام ہندوستان احمدی ہو جائے اور پھر ان کے سپر د دین کی تعلیم وتربیت کا کام کیا جائے تو ایک ایک شخص کے حصہ میں صرف پانچ پانچ آدمی آئیں گے اور بالغوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فی استاد چھپیں چھپیں آدمی آئیں گے۔) الفضل ۸/جون ۱۹۴۴ء صفحه۱)