سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 292 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 292

270 نہیں تھی حضور کو بخوبی یاد تھی۔حضور فرماتے ہیں:۔اس کے علاوہ ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب یا اس سے کچھ کم رقم تحریک کو اس کی ضرورت کے سالوں میں دی گئی تھی اور ساٹھ ہزار کے قریب بینک میں ہے تحریک کو جو رقم خلافت جو بلی فنڈ میں سے دی گئی تھی اس کے متعلق انجمن والے کہتے ہیں کہ ہم نے تحریک کو روپیہ دیا ہوا ہے لیکن تحریک والے کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں کوئی اندراج نہیں۔مشکل یہ ہے کہ بہت سے رجسٹر قادیان میں ہی رہ گئے ہیں اس لئے اس رنگ میں تو فیصلہ ہو نہیں سکتا کہ ریکارڈ دیکھا جائے اور معلوم کیا جائے کہ بات کیا ہے لیکن میرا اپنا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ تحریک کو یہ رقم دی گئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جب بھی تحریک کا قرضہ جمع کیا کرتا ہوں تو یہ ڈیڑھ لاکھ بھی اس میں شمار کیا کرتا ہوں اس لئے مجھے تو یقین ہے کہ یہ رقم تحریک نے ضرور لی ہے اور مزید یقین مجھے اس وجہ سے ہے کہ چھ سات سال کی بات ہے میں ایک رقم کا جو ایک لاکھ بیس ہزار تھی حساب کرنے لگا تو اس میں سے ساٹھ ہزار کا تو رجسٹروں سے پتہ لگ گیا لیکن دوسرے ساٹھ ہزار کا پتہ نہیں لگتا تھا۔میں مانتا تھا کہ میں نے یہ روپیہ انجمن سے لے کر دیا ہے انجمن مانتی تھی کہ اس نے یہ روپیہ دیا ہے لیکن اس روپیہ کا نہ بیمہ کے ذریعہ جانا ثا بت تھا نہ کسی آدمی کے ذریعہ جانا ثابت تھا، نہ میرے بنک کے حساب میں یہ رقم ملتی تھی۔آخر میں نے تلاش شروع کی تو مجھے پتہ لگا کہ میں کسی کام کے لئے لاہور جارہا تھا ساتھ میں نے دفتر کے ایک کلرک سیحیی خان صاحب مرحوم کو بٹھایا اور میں نے کہا کہ بندوق لے کر بیٹھو کیونکہ میرے پاس روپیہ ہے۔چلتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ خرچ زیادہ ہوگا کچھ اور روپیہ لے لیں چنانچہ میں نے انجمن کو کہا کہ اتنا روپیہ دید و چنانچہ اس نے روپیہ دیا اور وہ ہم اپنے ساتھ لاہور لے گئے اور وہاں ہم نے بنک کو دیا کہ کراچی کے فلاں حساب میں یہ رقم جمع کرادی جائے۔اس طرح اس روپیہ کا سراغ مل گیا۔اس کے بعد مجھے خیال آیا کہ کہیں اور رقوم میں بھی اسی طرح گڑ بڑ نہ ہو چنانچہ اس ایک لاکھ پچاس ہزار کا جب میں نے حساب مانگا تو انجمن والوں نے کہا کہ ہم تو یہ روپیہ دے چکے ہیں ( تحریک کو ) میں نے برکت علی خان صاحب کو