سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 286 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 286

264 وقت بھی سوچ رہا ہوتا ہوں، پاخانہ کرتے وقت بھی سوچ رہا ہوتا ہوں ،طہارت کرتے وقت بھی سوچ رہا ہوتا ہوں غرض کوئی وقت مجھے ایسا نظر نہیں آتا جب میرا دماغ فارغ ہو یا میرا دماغ فارغ ہونا چاہیئے یا میرا دماغ فارغ ہو سکے ( الفضل ۷ رمئی ۱۹۵۰ء صفحه ۳) آپ کے ساتھ کام کرنے والوں کے بیان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ صلاحیت بخشی تھی کہ آپ ایک وقت میں ایک سے زیادہ سیکرٹریوں کو خطوط کے جواب ، مسائل کا حل اور انتظامی امور کے متعلق ہدایات تحریر کرواتے جاتے تھے۔مشکل اوقات میں جب زیادہ محنت کرنا پڑتی تھی تو اللہ تعالیٰ کی تائید بھی عام حالات - زیادہ ہوتی۔حضور اس ایمان افروز تجربہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” جب کبھی کوئی مشکل وقت مجھ پر آیا ہے اس وقت میں نے اپنے اندر بہت زیادہ قوت پائی ہے۔باوجود اس بیماری کے جو اس سفر میں ہوئی۔میں نے اس بیماری کی کوئی پرواہ نہ کی اور برابر کام میں لگا رہا لیکن میں بیروت اور شام کے درمیان دوران سفر میں ایک دن کام نہ تھا تو ایسی حالت ہوئی کہ میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے اور غشی تک نوبت پہنچ گئی۔میں نے دیکھا ہے جتنا کبھی کام بڑھا ہے اتنی ہی زیادہ خدا تعالیٰ نے طاقت دے دی ہے۔پس مشکلات کوئی چیز نہیں اگر خدا تعالیٰ پر بھروسہ اور یقین ہو تو مشکلات کمزور نہیں کرتیں بلکہ طاقتور بناتی ہیں۔میں کبھی مشکلات سے نہیں گھبراتا، نہ مجھے یہ خوف ہے کہ آپ لوگوں کو ان کا سامنا کرنا پڑے گا اگر ڈر ہے تو یہی کہ تربیت اخلاص کو نہ لیجائے۔اگر تم لوگ تربیت میں مکمل ہو جاؤ تو اخلاص میں کمی نہ آ جائے ، اور جب یہ دونوں باتیں حاصل ہو جائیں گی تو یورپ کا فتح کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ہوگا“ ( الفضل ۶ / دسمبر ۱۹۲۴ء صفحه ۶ ) محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ عبادات اور جماعتی کاموں میں حضور کے انہاک کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتی ہیں: حضرت ابا جان کی زندگی کے متعلق طبیعت پر یہ اثر تھا کہ یہ خدائی تصرف میں ہے اور بچپن سے ہی دماغ میں یہ خیال بسا ہوا تھا کہ آپ عام