سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 279 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 279

256 اولا درا ہرن ہے اور دوسروں کے مالوں کو نا جائز طور پر اپنے تصرف میں لے آتی ہے۔پس مجھے ڈر ہے کہ ہماری اولادوں میں سے بھی کہیں چور، ڈاکو اور خائن لوگ پیدا نہ ہو جائیں جو سلسلہ کے روپیہ کی حفاظت نہ کرسکیں۔ہم جماعت کا بجٹ اس طرح بنا ئیں کہ اس کا ایک ایک پیسہ صحیح طور پر خرچ ہو اور اس کے نتیجہ میں اسلام مضبوط ہو۔پھر اس کام کی ہماری آئندہ نسلوں کو بھی توفیق ملے اور ہمیشہ ہمیش کے لئے ان کا یہ کریکٹر قائم رہے کہ دین کا جو روپیہ ان کے پاس آئے وہ بینک کے سیف سے بھی زیادہ محفوظ رہے وہ اس کا استعمال پوری عقل سے کریں اور اس میں سے ایک پیسہ بھی ضائع نہ ہونے دیں۔“ رپورٹ شور کی ۱۹۵۶ء صفحه ۴ ) حضور اس امر کی بہت سختی سے نگرانی فرماتے تھے کہ جماعت کا کوئی پیسہ ضائع ہو جائے ، غلط جگہ پر یا اسراف سے خرچ کو آپ بہت نا پسند فرماتے تھے:۔مکرم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے قادیان بیان کرتے ہیں کہ حضور پسند نہ فرماتے تھے کہ صدر انجمن احمدیہ کا روپیہ بے احتیاطی سے خرچ ہو۔۔۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ نا صر آباد سندھ میں حضور موسم گرما میں تشریف لے گئے وہاں ٹھنڈا پانی نہیں ملتا تھا۔حضور کی ہدایت کے مطابق ریلوے اسٹیشن کنجیجی سے جو تین میل کے قریب ہو گا ریل گاڑی سے دو پہر کو برف منگوائی جاتی تھی۔عملہ دفتر نے بھی چند پیسوں کی برف اپنے لئے منگوانی شروع کی (حساب پیش ہونے پر) حضور نے اس خرچ کو کاٹ دیا لیکن اپنی طرف سے استعمال کے لئے برف بھجواتے رہے۔یادر ہے کہ حضور چندوں کی وصولی کی غرض محض مال و دولت کا حصول ہی نہیں سمجھتے تھے بلکہ مالی قربانی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اخلاص اور ایمان کو زیادہ قیمتی، زیادہ کار آمد اور زیادہ نتیجہ خیز سمجھتے تھے۔حضور فرماتے ہیں :- اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سب سے اہم چیز چندہ ہے نہ صرف اس لئے کہ اس سے روپیہ جمع ہوتا ہے بلکہ اس لئے بھی کہ یہ جماعت کے اخلاص اور اس کے جوش کو قائم رکھنے والی چیز ہے۔وہ شخص جو چندہ دینے میں ستی سے کام لیتا ہے اس کا جوش اور اخلاص رفتہ رفتہ مرتا چلا جاتا ہے۔پس جماعت کے خزانوں کو بھرنے کے لئے نہیں ، اپنے کاموں کو وسیع کرنے کے لئے نہیں بلکہ جماعت کے