سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 278 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 278

255 وہ سمجھیں گے کہ مرکز میں جو انجمن کام کر رہی ہے وہ صرف پاکستان کی جماعتوں کی انجمن نہیں بلکہ ہماری بھی انجمن ہے۔پس چندوں کو زیادہ کرو اور ان طوفانوں سے مایوس نہ ہو بلکہ پہلوانوں کی طرح کام میں لگ جاؤ اور جہاں جہاں پانی خشک ہوتا ہو وہاں فوراً کھیتوں میں ہل چلا دو تا تمہاری آئندہ آمد نیں پہلے سے بھی بڑھ جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ چندے بھی بڑھ جائیں جب مرکز مضبوط ہو گا اور بیرونی مبلغین کو بھی خدا تعالیٰ اس بات کی توفیق دے گا کہ وہ نومسلموں سے چندے لیں تو سلسلہ تبلیغ وسیع ہو جائے گا۔جب بھی دنیا میں کوئی مذہبی تحریک چلی ہے اس کے ابتدائی مبلغ اسی ملک کے ہوتے تھے۔چنانچہ اسلام کے پہلے مبلغ عرب ہی تھے لیکن اس کے بعد ایرانی اور عراقی آگئے اور انہوں نے اسلام کی اشاعت شروع کی۔حضرت معین الدین صاحب چشتی ، شہاب الدین صاحب سہروردی ، بہاء الدین نقشبندی سب دوسرے ممالک کے تھے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں اسلام کی بڑی خدمت کی۔حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد بھی ۶۰-۵۰ سال تک عیسائیت کو پھیلانے والے ان کے اپنے علاقے کے ہی مبلغ تھے لیکن بعد میں اور علاقوں میں بھی مبلغ پیدا ہو گئے اور آپ کے سو سال کے بعد تو سارے مبلغ اٹلی کے ہی تھے۔پھر اور انگلینڈ سے بھی کئی مبلغین اشاعت عیسائیت کے لئے آگے آگئے پس جب تک مبلغین نومسلموں کو چندہ دینے کی عادت نہیں ڈالیں گے یہ کام لمبے عرصہ تک نہیں چل سکتا۔“ ( الفضل ۲۵ نومبر ۱۹۵۵ء صفحه ۴ ) بیت المال کے وسیع کثیر المقاصد نظام کو دیانتداری سے جاری رکھنے کی تو فیق پانے کے لئے دعا کی تحریک کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیانت سے کام کرنے کی توفیق دے۔دشمن تو اب بھی اس بات کا قائل ہے کہ ہم نہایت دیانتداری سے کام کر رہے ہیں لیکن قوموں میں بعض افراد بد دیانت ہوتے ہی ہیں۔حضرت ابوبکر، حضرت عمرؓ اور حضرت علی کتنے پاکیزہ اور دیانتدار لوگ تھے لیکن ان کی نسلوں میں بھی چور، ڈاکو اور خائن پائے جاتے ہیں۔وہ اپنی ذات میں نہایت متقی اور ایمان والے لوگ تھے ، وہ دوسروں کے روپیہ کی حفاظت کرنے والے تھے لیکن اب ان کی