سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 17 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 17

17 مشتمل بر دو جج صاحبان ) کے روبرو پیش ہوا انہوں نے پٹ مین کے برعکس یہ فیصلہ دیا کہ اس مقدمہ میں شہادت کے سلسلہ میں سابقہ بیان قابل تسلیم تھا لیکن یہ فیصلہ اب اپیل کنندہ پر اثر انداز نہ ہو سکتا تھا جسے جسٹس پٹ مین بری کر چکے تھے۔وہ صاحب جیل سے رہائی کے بعد چالیس سال تک زندہ رہے اور انہوں نے ہمیشہ اس عہد کو نہایت احسن طریق سے نبھایا جو انہوں نے جیل میں کیا تھا۔ان میں تمام ظاہری اور باطنی انقلابات تکمیل پذیر ہو چکے تھے۔وہ گذشتہ سال اپنے آخری وقت تک نہایت مضبوطی اور استقلال سے صراط مستقیم پر جمے رہے اور تضرع و عاجزی ان میں پیدا ہوگئی اور انہوں نے اپنے نفس کو خلق خدا کے لئے وقف کرتے ہوئے اپنی عارضی لغزشوں کے تمام نشانات کو گلی طور پر معدوم کر دیا جن کے لئے انہیں بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی تھی اور جن سے انہوں نے بالآ خر خدا تعالیٰ کے فضل و رحم کے طفیل رہائی حاصل کر لی تھی۔تحفہ شاہزادہ ویلز جب ڈیوک آف ونڈسر جو اس وقت پرنس آف ویلز اور تخت برطانیہ کے وارث تھے (جس پر وہ کبھی برا جمان نہ ہو سکے کیونکہ ایڈورڈ ہشتم کی حیثیت میں وہ رسم تخت نشینی سے قبل ہی دستبردار ہو گئے۔) وہ ۱۹۲۲ء میں ہندوستان تشریف لائے۔لاہور میں ان کے قیام کے دوران حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور جماعت کی طرف سے ان کی خدمت میں ایک کتاب تحفہ کے طور پر پیش کی گئی تھی جس کا نام ”تحفہ شہزادہ ویلیز تھا۔اس کتاب میں آپ نے تعلیمات اسلامی کی اسلام کے زندہ مذہب ہونے کی حیثیت میں نہایت واضح اور مدلل تشریح فرمائی تھی نیز اس کے آخر میں انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت بھی دی۔اصل کتاب حضرت صاحب نے اردو میں رقم فرمائی اور مسودہ کی ایک نقل مجھے لا ہوران ہدایات کے ساتھ ارسال فرمائی کہ میں اس کا جس قدر بھی جلد ممکن ہو سکے انگریزی میں ترجمہ کروں اور پھر تر جمہ کو نظر ثانی کے لئے قادیان لے جاؤں۔میں نے پانچ دنوں میں اس ترجمہ کو مکمل کر لیا اور اسے لے کر قادیان چلا گیا وہاں دو دن اس کی نظر ثانی پر صرف کئے گئے۔نظر ثانی کرنے والے احباب کا بورڈ خود حضرت صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد