سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 259
236 مستقل طور پر جاری تھا جو ہزاروں سے نکل کر لاکھوں اور کروڑوں تک پہنچا۔(مذکورہ بالاتحریکات ان کے علاوہ تھیں) یہ تقابل یقینا ایک چیلنج ہے ہر ماہر مالیات اور ہر وزیرخزانہ کے لئے کہ ۲۲ روپے چندہ ہر پانے والے اور چند آنوں کا سرمایہ رکھنے والے نے اتنے بڑے بڑے کام اور اتنے شاندار نتائج کس طرح حاصل کر لئے۔ہمارے مقابلہ پر بڑی بڑی مذہبی جماعتیں بڑے بڑے دعاوی لیکر آئیں لیکن اس مالی قربانی کے میدان میں کوئی بھی ہماری جماعت کا مقابلہ نہ کر سکا۔یہ ایسا دعویٰ نہیں ہے جو جماعت ہی کر رہی ہو۔غیر معمولی مالی قربانی دوسروں کی آنکھوں کو بھی خیرہ کر رہی تھی ایک مشہور صحافی جماعت کی ابتدائی حالت اور بعد کے زمانہ کا مقابلہ کرتے ہوئے بڑی پتے کی بات کہہ گیا ہے۔قادیان کے احمدیوں کی پچاس سالہ رفتار کے زیر عنوان مشہور رسالہ ریاست جس کے مدیر سردار دیوان سنگھ مفتون ایک نڈر اور بے باک صحافی کی شہرت رکھتے اور جماعت کے کارناموں پر خوب نظر رکھتے تھے۔ایک اداریہ میں لکھتے ہیں۔احمدی حضرات کا اخبار الفضل قادیان میں آج سے پچاس سال پہلے یعنی ۸ ستمبر ۱۸۹۶ء کا لکھا ہوا ایک خط شائع ہوا ہے جو اس جماعت کے بانی حضرت مرزا غلام احمد نے ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین کو چکراتہ (ضلع سہارنپور ) بھیجا۔آپ لکھتے ہیں :- باعث تکلیف دہی یہ ہے کہ اس مہمان خانہ میں دن بدن بہت آمد و رفت مہمانوں کی ہوتی جاتی ہے اور پانی کی دقت بہت رہتی ہے۔ایک کنواں تو ہے مگر اس میں ہمارے بے دین شرکاء کی شراکت ہے۔وہ آئے دن فتنہ فساد برپا کرتے رہتے ہیں اور نیز سقے کا خرچ اس قدر پڑتا ہے کہ اس کی تین سال کی تنخواہ سے ایک کنواں لگ سکتا ہے لہذا ان وقتوں کو دور کرنے کے لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ ایک کنواں لگا یا جاوے۔سو آج فہرست چندہ مخلص دوستوں کی مرتب کی ہے۔جس میں آپ کا نام بھی داخل ہے۔اس چندہ سے یہ غرض نہیں ہے کہ کوئی دوست فوق الطاقت کچھ دیوے بلکہ جیسا کہ چندوں میں دستور ہوتا ہے کہ جو کچھ بطیب خاطر میسر آوے وہ بلا توقف ارسال کرنا چاہئے۔اپنے پر فوق الطاقت