سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 258
235 ۲۴- تعلیم الاسلام کالج: ( یہ تحریک ۱۹۴۴ء میں حضور نے کی۔ڈیڑھ لاکھ کی تحریک فرمائی چھ ماہ میں ہی ایک لاکھ اکاون ہزار کے وعدے ہو گئے ) ۲۵ - تراجم قرآن کریم : ( ۲۰ / اکتوبر ۱۹۴۴ء میں یہ تحریک کی۔خرچ کا اندازہ ایک لاکھ چالیس ہزار کا تھا جماعت نے دو لاکھ ۲۰ ہزار کے وعدے پیش کئے ) ۲۶ - توسیع تعلیم الاسلام کالج ( کالج کی توسیع کی تحریک ۱۵ مارچ ۱۹۴۶ء میں فرمائی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے کالج کی وسیع و عریض شاندار عمارت اور باقی ضروریات کا شاندار طریق پر پورا ہونا اس تحریک کی کامیابی کا منہ بولتا اعلان ہے ) ۲۷ - ترجمة القرآن انگریزی (۱/۲۰ اکتوبر ۱۹۴۴ء میں تحریک فرمائی۔ایک ہزار کتابیں خریدنے کی تحریک تھی۔ایک سو حضور نے خود خرید میں اور جماعت نے مطلو به رقم پوری کردی ) ۲۸ - تعمیر مسجد مبارک ربوه (۳ /اکتوبر ۱۹۵۰ء کو حضور نے سنگ بنیاد رکھا قریباً پچاس ہزار میں تعمیر ہوئی۔جماعت نے قربانی کے معیار کو برقرار رکھا ) ۲۹- تعمیر مساجد بیرون (امریکہ، ہالینڈ، جرمنی، اٹلی ، سپین، فرانس میں مساجد کی تعمیر کے لئے تحریک فرمائی ابتداء میں سات لاکھ ترپن ہزار آمد ہوئی۔تاہم بعد میں اس سے کئی گنا زائد خرچ سے یہ مساجد تعمیر ہوئیں اور جماعت نے بخوشی یہ قربانی کی ) ۳۰- اصلاح و ارشاد مقامی ( یہ تحریک ۱۹۵۸ء میں کی گئی حضور کے ارشاد پر حضرت چو ہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے تحریک کی کہ ایک سو صاحب ثروت احباب تین سال تک ۲۵ روپے ماہوارا دا کریں۔یہ تحریک بھی بہت کامیاب رہی ) ۳۱- وقف جدید ( یہ تحریک ۲۷ / دسمبر ۱۹۵۷ء میں کی گئی۔یہ تحریک ابتدا ء صرف پاکستان کے لئے تھی مگر آہستہ آہستہ اس کے نیک اثرات اور عمدہ نتائج ساری دنیا میں پھیل چکے ہیں ) لاکھوں کے مضرف سے قائم ہونے والے اشاعتی ادارے اور ٹیل اینڈریلیجس پبلشنگ کمپنی اور الشرکۃ الاسلامیہ کے لئے الگ چندے کی تحریک تو نہیں تھی تاہم ان کی ذمہ داری بہر حال جماعت پر ہی تھی۔چندہ عام، چندہ وصیت، چنده جلسه سالانہ یعنی لازمی چندوں کا سلسلہ