سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 235
222 وہ کے بدترین دشمن یہودیوں اور عیسائیوں کو یہ دعوت دی جا سکتی ہے کہ رسالت نبوی کے لئے نہیں بلکہ محض وحدانیت خداوندی کے لئے مجتمع ہو جائیں اور با ہمی تعاون سے کام لیں تو کیا وجہ ہے کہ آج مسلمان اپنے باہمی اختلافات کو نظر انداز کر کے رسول کریم صلی الہی الہ علم کی صداقت اور اسلام کی اشاعت کے لئے با ہمی تعاون اور اشتراک سے کام نہ لے سکیں؟ اپنے نہایت مؤثر خطاب کے آخر میں آپ نے فرمایا : - ”آج مسلمانوں کے مختلف فرقے نہایت معمولی مسائل پر باہم دست وگریباں ہیں۔حالانکہ ان کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم محمد مصطفی صلی اللہ و آلہ سلم کی ذات اور اسلام پر ہونے والے حملوں کا دفاع کس طرح کریں۔آپ نے کہا کہ مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں اور مختلف فرقے یورپ اور دوسرے ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے مشن کھولیں تو یقیناً چند ہی سالوں کے اندر اندر یورپ کی کثیر آبادی محمد رسول اللہ صل اللہ یہ آلہ سلم کے حلقہ غلامی میں آ سکتی ہے آپ نے کہا اگر آج مسلمانوں نے بھی اپنی غفلتوں اور سُستیوں کو ترک نہ کیا اور اسلام کی اصل ضرورت کو سمجھ کر میدان میں نہ آئے تو وہ قیامت کے روز شافع محشر کو اپنا منہ نہ دکھا سکیں گے، ( مصلح کراچی ۲۳ - ستمبر ۱۹۵۵ء صفحہ ۳۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۱۸صفحہ ۳۱) مسلمانوں میں باہمی اتحاد کی یہ بر وقت تحریک اس وقت کے پریس نے نمایاں طور پر شائع کی۔اس نصیحت کی اہمیت وضرورت میں بہت سارا وقت گزرنے کے باوجود کوئی کمی نہیں آئی بلکہ یہ کہنا کسی طرح غلط نہ ہو گا کہ اب اس کی اہمیت پہلے سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔