سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 216
212 گی کہ آپ نے اپنی غلطی کا بدلہ اپنی جان سے دیدیا اور آپ کا اخلاص باقی رہ گیا جسے وہ ہمیشہ یادرکھنے کی کوشش کرے گی لیکن اگر آپ سے کسی قسم کا خوف ظاہر ہو یا گھبراہٹ ظاہر ہو تو یقیناً جماعت کے لئے یہ ایک صدمہ کی بات ہوگی اور آپ کے پہلے فعل کو وہ کسی دینی غیرت کا نتیجہ نہیں بلکہ عارضی جوش کا نتیجہ خیال کرے گی۔پس آج اس وقت کا معاملہ نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ اس پیالے کو آپ سے ملا دے اور آپ بھی دعا کریں کہ ایسا ہی ہو وہاں ہر ایک احمدی یہ امید کرتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی مشیت ہماری خواہشات کے خلاف ہو تو آپ کا رویہ اس قدر بہادرانہ ، اس قدر دلیرانہ اور اس قدر مومنانہ ہوگا کہ آئندہ نسلیں آپ کے نام کو یاد رکھیں اور آپ کی غلطی کو بھلاتے ہوئے آپ کے اخلاص کی یاد کو تازہ رکھیں اور ان کے دل اس یقین سے پُر ہو جائیں کہ ایک احمدی ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی مشیت پر خوش ہے اور اسے دنیا کی کوئی تکلیف مرعوب نہیں کرسکی، (آخر پر یوی کونسل نے بھی فیصلہ بحال رکھا اور قاضی صاحب کو ۶ امئی ۱۹۳۱ء کو گورداسپور جیل میں 4 بجے صبح پھانسی دی گئی۔( تاریخ احمدیت جلد ۶ صفحه ۳۱۱ تا ۴ ۳۱۔ایڈیشن ۱۹۶۵ء) اپنی اولاد میں اسلام کی محبت راسخ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔میں اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنی اولادوں میں اخلاق حسنہ اور قومی روح پیدا کریں اور انہیں دین کے خادم بنا ئیں۔اس وقت سے زیادہ کبھی اسلام کو خادموں کی ضرورت نہیں پڑی۔آج بہت نازک حالت ہے۔تمام دنیا اسلام کے خلاف کھڑی ہے اگر ہماری اولادوں میں اسلام کی محبت اور الفت نہ ہوگی، وہ اسلام کی شیدائی نہ ہوگی تو ہماری ساری کوششیں ضائع ہو جائیں گی اور دشمن اپنے انتظام کی قوت اور زور سے مسلمانوں کو اس طرح اُڑا دے گا جس طرح آندھی خس و خاشاک کو اڑا لے جاتی ہے ایسی حالت میں اسلام کی حفاظت کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ ہم اپنی اولاد میں اسلام کی محبت پیدا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت میں قادیان کے دوستوں کو اور باہر کے دوستوں کو یہی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اولاد میں ایسی روح پیدا کریں کہ اسلام کی محبت اس کے