سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 215
211 ہے کہ غلطی کی سزا اس دنیا میں دے کر انسان کو پاک کر کے اپنے فضل کا وارث کر دے۔پس چونکہ خوا ہیں تعبیر طلب ہوتی ہیں ان کے ظاہری معنوں پر اس قد رزور نہیں دینا چاہئے اور اس امر کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ اگر ان کی تعبیر کوئی اور ہے تو پھر بھی بندہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر راضی رہے۔کوئی انسان دنیا میں نہیں ہے جو موت سے بچا ہوا ہو اور ایسا بھی کوئی نہیں جو کہہ سکے کہ وہ ضرور لمبی عمر پائے گا۔بڑے بڑے مضبوط آدمی جوان مر جاتے ہیں اور کمزور آدمی بڑھاپے کو پہنچتے ہیں۔پس کون کہہ سکتا ہے کہ وہ ایک خاص قسم کی موت سے بچ بھی جائے تو کل ہی دوسری قسم کی موت اسے پکڑ نہ لے گی۔پس کیوں نہ بندہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر راضی ہو تا کہ اس دنیا میں اسے جو تکلیف پہنچی ہوا گلے جہان میں تو اس کا بدلہ مل جائے۔پس میں چاہتا ہوں کہ اس وقت ابھی اپیل پیش ہونے والی ہے آپ کو توجہ دلاؤں کہ اگر خدانخواستہ یہ آخری کوشش بھی نا کام رہے تو آپ کو صبر اور رضاء بقضاء کا ایسا اعلیٰ نمونہ دکھانا چاہئے کہ جو ایک مومن کی شایانِ شان ہو۔ابھی پچھلے دنوں بھگت سنگھ وغیرہ کو پھانسی کی سزا ہوئی ہے لیکن ان لوگوں نے رحم کی اپیل کرنے سے بھی انکار کر دیا کیونکہ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ملک کے لئے یہ کام کیا ہے ہم کسی رحم کے طالب نہیں اور پھر بغیر گھبراہٹ کے اظہار کے یہ لوگ پھانسی پر چڑھ گئے۔یہ وہ لوگ تھے جو نہ خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے اور نہ مابعد الموت انہیں کسی زندگی یا کسی نیک بدلہ کا یقین تھا۔صرف قومی خدمت ان کے مد نظر تھی اور بس۔ان لوگوں کا یہ حال ہے تو اس شخص کا کیا حال ہونا چاہئے جو خدا تعالیٰ پر یقین رکھتا ہو اور ایک نئی اور اعلیٰ زندگی کا امیدوار ہو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت اسلامی تعلیم کے مطابق مجبور ہے کہ آپ کے فعل کو غلطی پر محمول کرے لیکن ساتھ ہی جماعت اس امر کو بھی محسوس کر رہی ہے کہ آپ نے غیرت اور دینی جوش کا ایسا نمونہ دکھایا ہے کہ اگر اس فعل کے بدلہ میں آپ کو سزائے پھانسی مل جائے تو یقیناً جماعت اس امر کو محسوس کرے