سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 185
181 میں آیا ہے کہ قرض کی واپسی کے وقت بسا اوقات بدمزگی اور تلخی پیدا ہو جاتی ہے جس سے فائدہ کی بجائے الٹا نقصان ہوتا ہے حضور اس معاشرتی خرابی کے سدِ باب کے لئے ایک لائحہ عمل تجویز فرما رہے ہیں تا کہ جماعتی اتحاد واتفاق میں رخنہ اندازی کا یہ پہلو بھی ختم ہو سکے۔آپ فرماتے ہیں :- میں ایسے قواعد سوچ رہا ہوں کہ بغیر کسی محکمہ پر خاص طور پر بوجھ وو ڈالنے کے دوست اپنی بھی اصلاح کریں اور دوسروں کی بھی۔پس یہ تین کام ہیں اول یہ کہ بجائے اپنے کسی بھائی کو بدنام کرنے کے پہلے عام رنگ میں نصیحت کی جائے کہ وہ لوگ جنہیں کہیں سے روپیہ آنے کی امید نہ ہو وہ قرض نہ لیا کریں۔دوسرے روپیہ دینے والوں کو نصیحت کریں کہ ایسے لوگوں کو قرض دینے سے اجتناب کیا کریں اور تیسری بات یہ ہے کہ دھوکا باز کا فریب جماعت میں ظاہر کریں۔تا کہ لوگ اس سے بچ کر رہیں۔پھر ہمیشہ مظلوم کی تائید کرنی چاہئے مگر غلطی سے لوگ مظلوم غریب کو قرار دیتے اور سمجھ لیتے ہیں کہ امیر ہی ظالم ہے حالانکہ اگر ایک کروڑ پتی کا ایک روپیہ بھی کسی غریب نے دینا ہے اور وہ دینے کی طاقت رکھتا ہو اور نہیں دیتا تو کروڑ پتی مظلوم ہے اور غریب ظالم الفضل ۱۵۔فروری ۱۹۳۴ء صفحہ ۷۔۸) مقام خلافت کی تشریح و توضیح کرتے ہوئے جس سے خلیفہ کی عظمت وشان نمایاں ہوتی ہے آپ نہایت پر حکمت انداز میں کامل اطاعت کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔دوفرماں برداریاں ہیں جن کا میں مطالبہ کرتا ہوں ان میں سے ایک تو ساری دنیا کو متحد کرنے والی ہے اور دوسری وقتی اور حالات کے مطابق بدلتی رہنے والی ہے۔پہلی فرمانبرداری میری ہے جو خدا اور اس کے رسول کے حکم کے ماتحت ہے کیونکہ میں صرف ہندوستان کے لوگوں کا ہی خلیفہ نہیں میں خلیفہ ہوں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا اور اس لئے خلیفہ ہوں افغانستان کے لوگوں کے لئے عرب، ایران، چین، جاپان، یورپ، امریکہ، افریقہ، سماٹرا جاوا اور خود انگلستان کے لوگوں کے لئے غرضیکہ کل جہاں کے لوگوں کے لئے میں خلیفہ ہوں۔اس بارے میں اہلِ انگلستان بھی میرے تابع ہیں دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس پر میری مذہبی حکومت نہیں سب کے لئے یہی حکم ہے کہ میری بیعت کر کے حضرت مسیح موعود