سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 170
166 66 ایم۔اے کی ڈگریاں لینی دین کے لئے مفید نہیں۔“ میں کہتا ہوں بی۔اے ، ایم۔اے ہو کر کیا کرو گی ؟ میں اپنی جماعت کی عورتوں کو کہتا ہوں کہ دین سیکھو اور روحانی علم حاصل کرو۔حضرت رابعہ بصری یا حضرت عائشہ کے پاس ڈگریاں نہیں تھیں۔دیکھو حضرت عائشہ نے علیم دین سیکھا اور وہ نصف دین کی مالکہ ہیں۔مسئلہ نبوت میں جب ہمیں ایک حدیث کی ضرورت ہوئی تو ہم کہتے ہیں کہ جاؤ عائشہ سے سیکھو۔“ ( مصباح ۱۵۔جنوری ۱۹۳۴ء) اسی امر کی مزید وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: - عورتوں کا کام ہے گھر کا انتظام اور بچوں کی پرورش۔مگر لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ دوسرے کی چیز کو اچھی جانتے ہیں اور اپنی ھے پسند نہیں کرتے اس لئے یورپ کی عورتوں کی ریس کر کے ہماری مسلمان قوم اپنی لڑکیوں کو ڈگریاں دلانا چاہتی ہے۔حالانکہ عورت گھر کی سلطنت کی ایک مالکہ ہے اور ایک فوجی محکمہ کی گویا افسر ہے کیونکہ اس نے پرورش اولا د کرنی ہے۔“ ،، ( مصباح ۱۵۔جنوری ۱۹۳۴ء صفحہ ۴۔۵) اسی طرح آپ فرماتے ہیں :- و پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہمیں کن علوم کی ضرورت ہے ہمیں علم دین کی ضرورت ہے۔کوئی لڑکی اگر ایم۔اے پاس کر لے اور اسکو تربیت اولا دیا خانہ داری نہ آئے تو وہ عالم نہیں جاہل ہے۔ماں کا پہلا فرض بچوں کی تربیت ہے اور پھر خانہ داری ہے جو حدیث پڑھے قرآن کریم پڑھے وہ ایک دیندار اور مسلمان خاتون ہے۔اگر کوئی عورت عام کتابوں کے پڑھنے میں ترقی حاصل کرے تا کہ وہ مدرس بن سکے۔یا ڈاکٹری کی تعلیم سیکھے تو یہ مفید ہے کیونکہ اس کی ہمیں ضرورت ہے۔( الازهار لذوات الخمار صفحہ۳۵۵۔ایڈیشن ۱۹۴۶ء) حضرت مصلح موعود کے علمی شغف وانہماک کا پچھلی سطور میں مجمل خاکہ پیش کیا گیا ہے۔آپ کی توجہ اور رہنمائی میں جماعت میں متعدد بلند پایہ علمی ادارے قائم ہوئے۔آپ کی سیرت کے اس روشن پہلو کی ایک جھلک پیش کرنے کے لئے بعض اداروں کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے۔