سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 169
165 حضرت مصلح موعود عورتوں میں جس طرح دینی علوم عام کرنے کی سعی و کوشش فرماتے تھے اس کا نقشہ اپنے الفاظ میں کھنچتے ہوئے حضرت مریم صدیقہ حرم حضرت خلیفہ المسیح الثانی فرماتی ہیں:- حضرت مصلح موعود۔۔۔۔۔کے دل میں ایک آگ لگی ہوئی تھی کہ احمدی خواتین اور بچیوں میں قرآن مجید کا فہم ہو ، وہ قرآن مجید ترجمہ سے پڑھیں سمجھیں اور اس کے نور کی شمع سے دوسری خواتین کو منور کریں۔ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں بار ہا اپنی تقریروں میں آپ نے اس امر کا اظہار فرمایا کہ اصل علم دین کا علم ہے۔لڑکیوں کو تعلیم دلوانے کی یہ غرض نہیں کہ بچیاں صرف حساب انگریزی اور دوسرے علوم سیکھ کر ڈگریاں لے لیں یا نوکریاں کریں بلکہ اعلیٰ تعلیم سے مراد یہ ہے کہ جہاں دنیوی تعلیم حاصل کریں وہاں ساتھ ساتھ قرآن مجید کا علم ، حدیث کا علم سیکھیں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پر عبور حاصل ہو۔آپ کی ذاتی دلچسپی کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ ہجرت کے بعد بھی جبکہ سارا ملک ایک بحران میں سے گزر رہا تھا جماعت پر بھی بہت بڑا مالی بوجھ تھا لیکن ربوہ کے آباد ہوتے ہی یہاں لڑکیوں کا سکول جاری کر دیا گیا اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ا۱۹۵۱ء میں لڑکیوں کا کالج بھی جاری کر دیا گیا جو آج خدا تعالیٰ کے فضل سے پاکستان کے تمام زنانہ کا لجوں کے مقابلہ میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔“ (الفضل ۱۹۔نومبر ۱۹۶۶ء صفحی۴ ) خاکسار عرض کرتا ہے کہ مذکورہ کالج یقیناً آپ کے ولولوں اور جذبوں کا عکاس ہے یقیناً آپ نے اپنے مسلسل جہاد اور کوششوں سے احمدی عورتوں کو علم کے میدان میں ایک منفرد اور ممتاز مقام پر فائز کر دیا اور پاکستان ہی نہیں دنیا کے متمدن اور مہذب ممالک کے مقابلہ میں بھی احمدی عورت کسی سے پیچھے نہیں ہے۔مغربی تمدن سے متاثر ہونے والے عام طور پر سکول و کالج کی پڑھائی کو ہی معیار ترقی سمجھتے اور ڈگریوں کے حصول کو ہی اپنا مقصود وضح نظر بنالیتے ہیں ،مگر حضور اعتدال و توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے عورت کو اس کی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے ضروری علوم سیکھنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- علم دین سیکھو قرآن پڑھو، حدیث پڑھو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں علم و حکمت کی باتیں لکھی ہیں ان سے مفید علم سیکھو، بی۔اے،