سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 161
157 اگر کوئی اور ان کا لکھا ہوا مضمون ان کے سامنے سنائے تو وہ کانپنے لگ جاتے ہیں۔غرض تربیت نہایت ضروری ہے۔نہ صرف اخلاق بلکہ اپنے پیشہ کی بھی۔اس کے بغیر کامیابی نہیں ہوسکتی۔موقع اور حل کے لحاظ سے جو شخص اپنی قابلیت صرف نہیں کر سکتا وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ ہر شخص کی حالت کو مدنظر رکھ کر اس سے کلام کرے اور اس کے لئے دو باتیں ضروری ہیں۔ایک تو یہ کہ مبلغوں کا ایسا علم ہو کہ دوسروں سے اس علم میں پیچھے نہ ہوں۔دوسرے تربیت ایسی ہو کہ نہ صرف خود نیک ہوں بلکہ دوسروں کو نیک بناسکیں۔ان دونوں باتوں کے لئے ضروری ہے کہ ان کی نگرانی کرنے والا محکمہ ہو۔لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی چادر کو دیکھ کر پاؤں پھیلائیں مالی مشکلات پہلے ہی زیادہ ہیں۔ان کا بھی لحاظ رکھنا ضروری ہوگا۔“ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۱ء صفحه ۲۲-۲۳) حضرت میر محمد اسحاق صاحب ایک بلند پایہ جید عالم تھے مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر کی حیثیت میں وہ جماعت کی آئندہ نسل کی علمی بہتری کے ذمہ دار تھے ان کی وفات پر ان کا خلاء بہت زیادہ محسوس کیا گیا۔حضور نے جہاں ان کی تعریف اور تحسین فرمائی وہاں جماعت کو تو کل کی تلقین کرتے ہوئے اعلی تعلیم کے حصول کی طرف بہت دلنشیں اور مؤثر رنگ میں توجہ دلاتے ہوئے فرمایا : - جماعت کے بعض لوگوں کے دلوں میں گھبراہٹ پائی جاتی ہے کہ میر محمد اسحاق صاحب فوت ہو گئے، فلاں فوت ہو گیا اب کیا ہوگا ، ایسا نہ ہو کہ جماعت کے کاموں کو کوئی نقصان پہنچ جائے۔یہ خیال جو بعض لوگوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے ایسا ہے جسے جلد سے جلد اپنے دلوں سے دور کر دینا چاہئے اور سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اسی میں تھی کہ یہ وجود ہم سے جُدا ہو جائے۔“ ان کے انتقال سے جماعت کو اس لحاظ سے شدید صدمہ پہنچا ہے کہ وہ سلسلہ کے لئے ایک مفید وجود تھے مگر یا درکھو مومن بہادر ہوتا ہے اور بہادر انسان کا یہ کام نہیں ہوتا کہ جب کوئی ابتلاء آئے تو وہ رونے لگ جائے یا اس پر افسوس کرنے بیٹھ جائے۔بہادر آدمی کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ فوراً اپنی غلطی کو درست کرنا شروع کر دیتا ہے اور نقصان کو پورا کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے وہ شخص جو رونے لگ جاتا ہے مگر اپنی غلطی کی اصلاح نہیں کرتا وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔کامیاب