سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 135 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 135

135 پر کوئی امید نہیں کی جاسکتی وہ کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ جائے گا اور اس کی زبان کے دعوے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکیں گے (الفضل ۲۴۔جولائی ۱۹۴۲ء صفحہ ۷۶ ) خدا تعالیٰ کے فضل سے حضور مکمل غور و فکر کے بعد ہی کوئی فیصلہ فرماتے تھے اس خدا داد ملکہ کے متعلق بطور تحدیث نعمت آپ فرماتے ہیں :- میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اس قدر عمر پبلک کے سامنے گزاری ہے کہ حکومت بھی اور ابنائے وطن بھی اس امر کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ میں جلد بازی سے قدم اُٹھانے کا عادی نہیں ہوں جہاں تک ہوسکتا ہے سوچ کر اور غور وفکر کے بعد ہی فیصلہ کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت تک سترہ سالہ پبلک زندگی میں ایک دفعہ بھی مجھے شرمندہ ہونے کا موقعہ پیش نہیں آیا اور مجھے اپنے فیصلہ کو بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور جلد یا بد میرلوگوں کو میرے نقطہ نگاہ کی حت تسلیم کرنی پڑی ہے۔اپنے علم اور اپنے تجربہ کو دیکھتے ہوئے میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا ہے ورنہ چونکہ میری صحت خراب ہے اس کے اثر کے نیچے بالکل ممکن تھا کہ اگر خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو میری تقریر اور تحریر میں جلد بازی اور چڑ چڑے پن کا اثر پایا جاتا۔بہر حال دوست اور دشمن اس امر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے کہ میں محتاط آدمی ہوں اور اندھا دھند اعلان کرنے کا عادی نہیں (انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۶۸٬۶۷) مخالفت اور اعتراضات کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کئی رنگوں میں تائید فرماتا تھا۔جن میں سے ایک رنگ یہ تھا کہ آپ کو مخالفوں کے مقابلہ کی طاقت وقوت اور صحت عطا کی جاتی تھی۔حضور فرماتے ہیں :- " مجھے خدا تعالیٰ نے بچپن سے ہی ایسی زندگی میں سے گزارا ہے کہ اعتراضوں کی جب وہ بے ہودہ ہوں پرواہ ہی نہیں۔میرا جسم اعتراضوں کی کثرت سے اعتراضوں کی برداشت کیلئے اس قدر مضبوط ہو چکا ہے کہ اب اس پر کوئی اعتراض اثر ہی نہیں کرتا نہ لوگوں کی رضا سے میں خوش ہوتا ہوں نہ ان کی ناراضگی سے ناراض۔مجھے تو صرف خدا تعالیٰ کی رضا بس ہے اور اس کی رضا کو پورا کرنے کے لئے دشمن تو الگ رہے اگر اپنے دوستوں سے بھی مجھے الگ ہونا