سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 120 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 120

120 احراری کو کیوں ووٹ نہ دیں۔ہر مسلمان جو سیاست کے لحاظ سے مسلمان کہلاتا ہے اگر ہم اس کے متعلق یہ سمجھتے ہوں کہ وہ زیادہ اچھا کام کر سکتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے ووٹ دیں۔۔۔۔اسی طرح اگر ہم ایک مسلم لیگی کے متعلق سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے لئے مفید کام کر سکتا ہے تو ہمیں اس کے احمدی نہ ہونے کی وجہ سے اسے ووٹ دینے میں کوئی دریغ نہیں ہوسکتا اور نہ کسی اور پارٹی کے آدمی کو جو مسلمانوں کے لئے مضر نہ ہو الفضل ۲۰ مارچ ۱۹۴۶ء صفحہ ۷ ) جماعت احمدیہ کی مخالفت و دشمنی کے سلسلہ میں مولوی ظفر علی خاں صاحب کا نام بہت نمایاں ہے آپ ایک پُر جوش صحافی اور شعلہ بیان شاعر و مقرر تھے۔آپ زمیندار اخبار کے مالک تھے۔یہ اخبار اور مولوی صاحب کی تمام صلاحیتیں جماعت کی مخالفت کے لئے وقف تھیں یہاں تک کہ مخالفت کے زور میں بسا اوقات تہذیب و متانت اور شائستگی کے مسلم طریق بھی نظر انداز ہو جاتے تھے۔یہ ذکر ہو چکا ہے کہ باوجود تمام مخالفت و دشمنی کے محض قومی مفاد کی خاطر احمد یوں نے انہیں ووٹ دیئے اور یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر احمدی انہیں اپنے ووٹ نہ دیتے تو وہ اس حلقہ میں کامیاب نہ ہو سکتے۔یہاں یہ بیان کرنا بھی غیر ضروری نہ ہوگا کہ یہی مولوی صاحب ساری عمر شدید مخالفت میں گزار کر اپنی عمر کے آخری حصہ میں بیمار ہوئے تو کسی کو یہ یاد نہ آیا کہ آپ بابائے صحافت اور بلند پایہ ادیب و شاعر اور مدیر شہیر اور آزادی کے حصول کی خاطر تگ و دو کرتے رہے ہیں۔یہ عجیب مقام عبرت و نصیحت ہے کہ وہ انتہائی کسمپرسی کے عالم میں بمشکل اپنے سانس پورے کر رہے تھے۔حضور کے علم میں یہ بات آئی تو آپ نے نہ صرف اپنے معالج خاص کو ان کے معائنہ کیلئے بھجوایا بلکہ قیمتی نایاب ادویہ بھی باقاعدگی کے ساتھ ان تک پہنچانے کا اہتمام فرمایا۔محترم مرزار فیق احمد صاحب بیان کرتے ہیں :- مولانا ظفر علی خان مرحوم اپنے زمانے کے نامور صحافی اور مسلمانوں کے ایک طبقہ کے مانے ہوئے لیڈر تھے، روزنامہ زمیندار کے ایڈیٹر اور مالک تھے ، ادبی وسیاسی سرگرمیوں کے علاوہ احمدیت کی مخالفت آپ کی زندگی کا ایک بڑا مشن تھا اور یہ مخالفت آپ نے اس شد و مد سے کی کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ زمیندار محض اس کام کے لئے وقف ہے۔مسلمانوں کو یہ یقین دلانے میں پورا زور صرف کر دیا کہ اسلام اور