سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 1
1 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ جلوه صد رنگ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متضرعانہ دعاؤں کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے ایک عظیم الشان نشان عطا فرمایا کہ آپ کو گونا گوں صفات کا حامل ایک بیٹا عطا کیا جائے گا۔جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا ، خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا وہ جلد جلد بڑھے گا ، اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا ، زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قو میں اس سے برکت پائیں گی۔تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا حضرت مصلح موعود ہی وہ خدا ئی نشان تھے جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے وعدے پورے ہوئے اور آپ اتنی خوبیوں اور صفات سے بہرہ ور تھے کہ آپ ایک فرد کی بجائے اپنی ذات میں ایک انجمن تھے اور آپ کی زندگی کے ہر پہلو یا ہر خوبی پر نظر ڈالنے سے یوں لگتا ہے کہ آپ اس میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔آپ بہت متناسب الاعضاء میانہ قد تھے۔جسم ہلکا پھلکا اور چھر میرا تھا جو آخری عمر میں بھرا بھرا لگنے لگا تھا تا ہم موٹا پا اور بھڑاپن کبھی بھی نہ آیا۔آنکھیں غلافی پرکشش جو عا دتا نیم وا رہتی تھیں۔نظر اُٹھا کر کم ہی دیکھتے تھے مگر جس چیز کو بھی دیکھتے تھے اسے پاتال تک دیکھ لیتے اور حقیقت کو بخوبی سمجھ لیتے۔مسنون خوبصورت داڑھی جو نہ بہت لمبی تھی اور نہ ہی بہت چھوٹی۔اسی طرح داڑھی کے بال نہ تو چھدرے اور بھڑے اور نہ ہی بہت زیادہ گھنے تھے۔چہرے پر ایک بہت پیاری مسکراہٹ ہر وقت بھی رہتی۔کبھی کبھی قہقہہ لگا کر بھی بنتے تھے مگر بہت کم۔ہر حرکت و ادا سنجیدگی و ثقاہت لئے ہوئے ہوتی لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ آپ ریا کا رخشک مزاج صوفیوں یا زاھد وں کی طرح پیوست اور خشکی کی تصویر بنے رہتے تھے بلکہ آپ نہایت لطیف حسِ مزاح رکھتے تھے۔آپ کی تقاریر بعض دفعہ گھنٹوں لمبی ہوتیں مگر سننے والا اکتاہٹ اور بے دلی میں مبتلا نہ ہوتا کیونکہ آپ گفتگو اور تقریر کے دوران وقفہ وقفہ