سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 94
94 دعا کے مضمون کا ایک حصہ تو خالص علمی ہے جس میں مختلف مذاہب میں دعا کے متعلق تعلیمات، قرآن مجید و احادیث میں بیان فرمودہ دعا کی حقیقت و فلاسفی ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دوسرے اولیاء کرام اور بزرگان اُمت نے دعا کے متعلق جو معارف و حقائق بیان فرمائے ان کی تفصیل وغیرہ۔اس مضمون کا دوسرا حصہ جو عملی حصہ ہے اور جس میں قبولیت دعا کے نتیجہ میں خدائی فضلوں کا نزول، غیر معمولی حالات میں دعا کا معجزانہ اثر ، دعا کے نتیجہ میں زندہ خدا کی زندہ تجلیات کا ظہور وغیرہ۔یہ حصہ پہلے حصہ کی نسبت زیادہ اہم، زیادہ مؤثر اور زیادہ ضروری ہے۔کوئی شخص دعا کے متعلق زور دار مضامین تحریر کرے یا اپنی پُر جوش تقریروں سے سامعین کو ہلا کر رکھ دے مگر دعا کی قبولیت اور خدا تعالیٰ کے پیار کی مثالیں اور نشانات اپنے پاس نہ رکھتا ہو تو اس کی لفاظی محض ریاء اور خودرو جھاڑی کی طرح ہوگی جو پھلوں اور پھولوں سے خالی اور اتنی بے کار ہو کہ اچھے ایندھن کے طور پر بھی استعمال نہ ہو سکتی ہو۔حضرت مصلح موعود کی قبولیت دعا کے بے شمار واقعات سلسلہ کے لٹریچر میں موجود ہیں مگر ان سے تعداد اور کیفیت میں کہیں بڑھ کر وہ واقعات ہیں جو آپکے ساتھ کام کرنے والوں اور آپ کے خدام کے مشاہدہ میں آئے اور انہوں نے ان سے جسمانی و روحانی فوائد وبرکات حاصل کئے مگر وہ کسی کتاب یا رسالے میں محفوظ نہ ہو سکے۔ذیل میں چند واقعات بطور ” مشتے از خروارے پیش کئے جاتے ہیں۔یاد رہے کہ ایسے واقعات کا انتخاب نہیں ہے بلکہ دورانِ مطالعہ سامنے آنے والے چند واقعات ہیں۔اس سے میں تحقیق بہت ایمان افروز حقائق سامنے لائے گی۔مندرجہ ذیل واقعات میں قبولیت دعا کے ساتھ ساتھ اس خاص مقام کا بھی اظہار ہوتا ہے جو مقربان بارگاہ الہی کو دربارا لو ہیت میں حاصل ہوتا ہے۔استجابت کے مزے عرش بریں سجدہ کی کیفیتیں میری جبیں پوچھئے پوچھئے (کلام محمود صفحه ۲۲۹) ایک دوست نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں عرض کیا کہ حصول رزق کے متعلق مومن دعا سے کام لیتا ہے اور غیر مومن تدبیر سے لیکن نظر یہ آتا ہے کہ تدبیر سے کام لینے والا دعا کرنے والے کی نسبت زیادہ کامیاب رہتا ہے حالانکہ دعا اور اللہ تعالیٰ پر توکل تدبیر سے بہر حال افضل ہیں۔