سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 619 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 619

556 تھا۔میں سمجھ گیا کہ شیخ صاحب حضرت صاحب کے حضور تشریف لے جا رہے ہیں۔میں آگے بڑھا اور شیخ صاحب سے کہا یہ کتابیں مجھے دے دیں میں اُٹھا لیتا ہوں۔انہوں نے جواب دیا کہ خادم میرے ساتھ ہے میں اسے بھی یہ کتابیں اُٹھانے کے لئے دے سکتا تھا لیکن میں یہ کتابیں ایک مشورہ عرض کرنے کے لئے حضرت صاحب کے پاس لے جا رہا ہوں آپ کے ادب اور محبت کا تقاضا ہے کہ میں خود ان کو اُٹھا کر لے جاؤں۔چنانچہ وہ اسی صورت میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کتابوں کے حوالہ جات نکال کر بتایا کہ جوں نے (ظہور احمد ) غلط کارروائی کی ہے ایک آریہ اخبار جماعت کی تبلیغی کوششوں اور پریس کی مضبوطی کو اپنے رنگ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے :۔ان کے پلیٹ فارم کی مضبوطی کی تو یہ حالت ہے کہ ہر ایک احمدی سے یہ آشا کی جاتی ہے کہ مرکز سے حکم پاتے ہی وہ با قاعدہ واعظ کا کام کرنے پر تیار ہوگا۔اس کا پریس مضبوطی میں آریہ سماج کے مقابلہ میں حیرت انگیز ہے۔ایک قادیان کو لو وہاں سے نصف درجن اخبارات سے کم نہیں۔جن میں دو انگریزی ہیں۔احمدی پریس کا جال سارے ہندوستان میں ہی نہیں باہر نو آبادیوں ، اور مغربی ممالک تک بچھا ہوا ہے۔ہر جگہ سے احمدی اخبار اور رسالے نکلتے ہیں آریہ سماج کے پریس کی حالت کو دیکھ کر ہر ایک آریہ کا سر مارے ندامت کے جھک جانا چاہئے۔( آریہ اخبار پر کاش ۳۔جنوری بحواله الفضل ۱۴۔جنوری ۱۹۳۲ء صفحه ۴) چوہدری محمد اکبر خاں صاحب بھٹی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور ( جو جماعت میں شامل نہیں ہیں ) نے حضور کا بڑی توجہ اور گہری نظر سے جائزہ لیا ہے ان کے غیر جانبدارانہ تاثرات سے حضور کی سیرت وکردار کی عظمت ظاہر ہوتی ہے: ”جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی ذات مرجع خلائق تھی وہ جب بھی لا ہور آتے ان کی تقریر سننے والوں میں غیر احمدی ، ہندو، مسلم سامعین کی تعداد احمدی حضرات کے مقابلے میں کم نہ ہوتی تھی۔خاص طور پر ان کا دلکش