سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 618
554 لئے لاہور موٹر بھجوا دی اور ساتھ ہی تاکید فرمائی کہ انہیں فیس ضروری دی جائے کیونکہ یہ عموماً ہمارے کنبہ سے فیس نہیں لیتے۔جب موٹر ان کو لانے کے لئے لاہور پہنچی تو یہ باوجود اپنی غیر معمولی مصروفیات اور اعلی سرکاری حیثیت کے تیار ہو کر ربوہ آگئے اور امتحان کے لئے خون لیا۔ان کی واپسی کے وقت حضور نے ان کو ایک معقول رقم دینے کی سخت تاکید فرمائی۔رقم دینے والے شخص نے با اصرار نوٹوں والا لفافہ ان کی جیب میں ڈالدیا مگر وہ بھی رقم واپس کرنے میں عجیب طور سے کامیاب ہو گئے وہ اس طرح کہ موٹر پر سوار ہونے سے قبل لفافہ کو جو بظاہر ایک چٹھی کی شکل میں تھا صاحبزادہ ڈاکٹر منور احمد صاحب کو ہاتھ میں دے کر بھاگ کر موٹر میں سوار ہو گئے اور شیشے بند کر لئے اور موٹر کو چلوا دیا۔یہ کیا ہے۔کیوں ہے۔یہ حسن محمود ہے۔آپ کی محبت کی چنگاری نے ڈاکٹر غلام محمد صاحب کے دل میں بھی محبت کا شعلہ پیدا کر دیا تھا اسلام اور مسلمانوں کے حقیقی بہی خواہ حضور کا کیا مقام سمجھتے تھے۔اس کو سمجھنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایک دفعہ ایک مقدمہ قتل میں جس میں حضور نہ مدعی تھے نہ مدعی علیہ بلکہ گواہ تک بھی نہ تھے جوں نے حضور کے متعلق بعض ایسے الفاظ تحریر کئے جو کسی طرح بھی مناسب نہ تھے اس پر جماعت کی طرف سے ضروری قانونی چارہ جوئی کی گئی جس کے نتیجہ میں یہ غیر منصفانہ الفاظ فیصلے سے حذف کر دیئے گئے۔یادر ہے کہ سر شیخ عبد القادر لاہور کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ، پنجاب میں وزارت کے عہدہ پر رہے، لیگ آف نیشنز میں ہندوستان کی نمائندگی بھی کی ، علامہ اقبال کی مشہور کتاب بانگ درا کا دیباچہ بھی ان کا لکھا ہوا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ احمد یہ مسجد فضل لندن کے افتتاح کی سعادت بھی ان کو ملی تھی سابق وزیر قانون منظور قادر ان کے بیٹے تھے۔مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب بیان کرتے ہیں :- د حضور لاہور میں محترم شیخ بشیر احمد صاحب کے مکان پر مقیم تھے راقم الحروف بھی اس سفر میں حضور کے ہمراہیوں میں شامل تھا۔میں باہر سے شیخ صاحب کے مکان کی طرف آ رہا تھا ٹمپل روڈ پر جب میں مکان کی طرف مڑا تو سر شیخ عبدالقادر صاحب اپنی کوٹھی سے نکلے۔کتابوں کا ایک اچھا خاصا بنڈل جو سفید کپڑے میں بندھا تھا اٹھائے ہوئے تھے اور پیچھے ان کا خادم خالی ہاتھ آ رہا