سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 616 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 616

552 ایک دفعہ ایک لیبر لیڈر میرے پاس آئے وہ ساری دنیا کا دورہ کر کے آئے تھے اور اپنے سفر کے حالات سنا رہے تھے کہ میں امریکہ کے صدر نکسن سے بھی ملا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سربراہوں سے بھی ملاقات کی۔چواین لائی کو بھی دیکھا، ان سب میں ماؤزے تنگ حیرت انگیز دماغی صلاحیتوں کا مالک ہے، اس فقرہ کے بعد اچا نک خاموشی چھا گئی اس کی نگاہیں نیکی باند ھے ایک جانب دیکھ رہی تھیں، میں نے دیکھا کہ کانس پر پڑی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی تصویر پر ان کی نگاہیں جمی ہیں، جس کو غالبا شروع میں میرے گھر آ کر انہوں نے نوٹ نہیں کیا تھا۔میں نے ان کی محویت توڑتے ہوئے پوچھا، کیا ہوا کہنے لگے یہ سچ ہے کہ ماؤزے تنگ عظیم شخصیت ہے لیکن حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد سے ان کی زندگی میں ایک بار ملاقات ہوئی ، جس کو تادمِ آخر نہ بھول سکوں گا، اس دماغ کا انسان روئے زمین پر نہ مل سکے گا، افسوس نادر روز گار ہستی بہت جلد ہم سے جدا ہوگئی،، ( ملت کا فدائی صفحہ ۷۴-۷۵ ) حضور کی سحر انگیز شخصیت کے متعلق محترم قریشی عبدالرحمان صاحب سکھر ( شہید۔ناظم اعلیٰ انصار اللہ ) کے بیان کردہ مندرجہ ذیل دو واقعات بھی دلچسپی سے پڑھے جائیں گے:۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی شخصیت کے متعلق خاکسار کا تاثر یہ ہے کہ بڑے سے بڑا آدمی بھی بات کرتے وقت گھبرا تا تھا۔سکاؤٹس کے ساتھ وادی کاغان گیا واپسی پر ہم لوگ مری بھی گئے ان دنوں حضرت خلیفہ المسیح الثانی مری میں تشریف فرما تھے۔میں نے جملہ سکاؤٹس سے کہا کہ ہمارے خلیفہ صاحب مری میں تشریف فرما ہیں میں حضور سے ملنے جا رہا ہوں اگر کسی اور سکاؤٹ کی خواہش بھی ہو تو میں حضور سے وقت لے لوں۔گو سب غیر احمدی تھے مگر سب نے خواہش ظاہر کی کہ ہم سب ملاقات کے لئے چلیں گے چنانچہ خاکسار گیا حضور کی خدمت میں درخواست بھجوائی حضور نے از راہ شفقت کہلوایا کہ عصر کی نماز کے بعد مل لیں۔چنانچہ ہم لوگ ساڑھے چار بجے حضور کی جائے قیام پر پہنچ گئے۔حضور نماز عصر کے لئے تشریف لائے میں نے تو حضور کی اقتداء میں نماز پڑھی مگر دوسرے سب ساتھی باہر بیٹھے رہے جب نماز سے فارغ ہوئے تو حضور