سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 602
/// 538 مولا نا محمد علی صاحب پڑھے لکھے، باخبر اور منجھے ہوئے صحافی اور مصنف تھے اس لحاظ سے ان کا تبصرہ بہت وقیع اور اہم ہے مگر اس تبصرہ کی اہمیت اس وجہ سے اور زیادہ ہو جاتی ہے کہ مولانا محمد علی ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ۱۹۱۴ء کے جماعتی اختلاف کو طول دینے میں بنیادی کردار ادا کیا اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کی مخالفت میں اتنی دور نکل گئے کہ نقصان ما و شماتت ہمسایہ کی نوبت آ گئی۔آپ اپنے مذکورہ بالا تبصرہ میں حضور کی دینی ہمدردی اور اسلام کی حمایت کے جوش کو حضرت مسیح موعود کی صداقت کی بین دلیل کے طور پر غیروں کے سامنے پیش کرتے ہیں افسوس کہ تھوڑے عرصہ بعد ہی ان کا اپنا زور دار تبصرہ ان کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت پیش آ گئی۔یقیناً مولانا محترم کے پاس اس اپنی واقعاتی اور تجرباتی شہادت کو جھٹلانے کے لئے ضد اور تعصب کے سوا اور کوئی معقول بنیاد نہیں ہو سکتی۔ایک معزز علم دوست بزرگ جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کے بعد اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : - میں نے ایک اور بات جسے غور کے ساتھ دیکھا وہ یہ تھی کہ سارا گروہ، سارا سلسلہ، سارا ہجوم، سارا انبوه اس پاک نفس خلیفہ کی ایک چھوٹی انگلی کے اشارہ پر چل رہا ہے۔ہرشخص مرتسم خم کرتا ہوا اور اپنے امام کی محبت میں رنکین ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے جدھر دیکھو خلیفہ کی محبت و ایثار نفسی کا چرچا میں حضرت امام جماعت احمدیہ کے متعلق اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ شخص قلم کا دھنی بھی ہے، تقریر کا اعلیٰ درجہ کا ماہر بھی اور تنظیم کا اعلیٰ درجہ کا گورنر بھی الفضل ۳۔فروری ۱۹۲۸ء صفحہ ۷ ) مکرم میاں سلطان احمد صاحب وجودی ممبر پنجاب پراونشل کانگرس کمیٹی ( بٹالہ ) جو حضور سے متعدد مرتبہ ملاقات کر چکے تھے اور حضور کو بہت اچھی طرح جانتے تھے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- مرزا بشیر الدین محموداحمد میں کام کرنے کی قوت حد سے زیادہ ہے، وہ ایک غیر معمولی شخصیت کے انسان ہیں، وہ کئی گھنٹوں تک رُکاوٹ کے بغیر تقریر کرتے ہیں ان کی تقریروں میں روانی اور معلومات زیادہ پائی جاتی ہیں ، وہ بڑی بڑی تضخیم کتابوں کے مصنف ہیں ، ان کو مل کر ان کے اخلاق کا گہرا اثر ان