سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 586
528 قائد اعظم محمد علی جناح، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خاں، قائد اعظم کے معتمد ترین ساتھی خواجہ ناظم الدین ، سردار عبدالرب نشتر ، فیروز خان نون بعد میں وزیر اعظم پاکستان)، مہا راجہ حمید احمد خاں بھوپال، خان عبدالغفار خاں، ڈاکٹر خان صاحب، سرسلطان احمد ، سراحمد سعید خاں چھتاری، سر محمد شفیع اور دوسری طرف موہن داس رام چند گاندھی، مولانا ابوالکلام آزاد، پنڈت جواہر لال نہرو، مسز سروجنی نائیڈو، مس سرد ولا سارا بائی ، شیخ محمد عبد الله جیسے سیاسی اکابرین شامل تھے۔اسی طرح خواجہ حسن نظامی ، مولانا عبدالمجید سالک ، مولانا غلام رسول مہر، حفیظ جالندھری جیسے ادیب و شاعر بھی آپ کے دائرہ ملاقات میں شامل تھے۔( یہ فہرست بہت لمبی ہو سکتی ہے بطور نمونہ چند نام پیش کئے گئے ہیں ) ذیل میں حضور کی ملاقات سے بہرہ یاب ہونے والے بعض غیر از جماعت معززین کے تاثرات پیش کئے جاتے ہیں :- حضور کی روح پرور ملاقات کی یاد تازہ کرتے ہوئے بلند پایہ ادیب و سخنور جناب پروفیسر سید اختر صاحب اور مینوی صدر شعبہ اردو پٹنہ یو نیورسٹی تحریر کرتے ہیں :- حضرت خلیفہ المسیح زندگی کے نشیب وفراز اور پیچ وخم سے اچھی طرح آگاہ تھے وہ لطیفے بھی کہتے تھے، انہیں چٹکلے بھی یاد تھے، آپ شعر بھی پڑھتے تھے ، مجلسوں میں خوش آوازی سے نرم ہنسی بھی ہنتے تھے اور ہمیشہ متبسم رہتے تھے۔میں نے حضور کو قہقہہ لگاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ایک عجیب دمکتا ہوا وقار ہر وقت آپ پر طاری رہتا تھا لیکن سفید پگڑی کے نیچے گورا چہرہ ، خوبصورت ریش اور غلافی آنکھیں، تبسم اور محبت کے انداز سے چمکتی تھیں۔روحانیت پوری شخصیت سے مترشح ہوتی تھی۔میں نے حضور سے علمی مسائل کے بارے میں رہنمائی بھی حاصل کی ہے اور جماعت کے افراد کے ساتھ دربارِ خلافت میں بھی حاضر ہوا ہوں اور مجھ جیسے لاکھوں لوگوں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو دیکھا ہے وہ سب گواہی دیں گے اور میرا دل بھی شاہد ہے کہ حضور کی شخصیت میں ایک عجیب روحانی مقناطیست پائی جاتی تھی۔آپ کا وجود اپنے اندر کہربائیت رکھتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی ذات میں قیادت کے سارے پہلو بحسن وخوبی جلوہ گر تھے۔محبت اور رعب کا ایسا امتزاج پایا جا تا تھا کہ دل گرویدہ ہو جاتا تھا۔غیر مطبوعہ ریکار ڈ فضل عمر فاؤنڈیشن ) 66