سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 572 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 572

514 کریم بخش صاحب منہاس) کو دکھیار لے جائیں آپ ان کے امیر ہونگے۔ایک دن رات وہاں ٹھہر سکتے ہیں۔اخراجات کے لئے ۶۰ روپے آپ کو بھجوا رہا ہوں۔مزید ۲۰ روپے کسی ہنگامی ضرورت کے لئے اور مزید ۲۰ روپے اگر چنبہ سے راجہ گلاب سنگھ امر سنگھ آجائیں تو ان کی مہمانی کے لئے بڑی پارٹی کا فرض ہوتا ہے کہ چھوٹی پارٹی کی مہمانی کرے۔اگر چہ ” کھجیا‘ ان کی ریاست میں ہے مگر یہ مہمانی آپ نے کرنی ہے نہ کہ انہوں نے۔گویا خاکسار کوکل ۱۰۰ روپے حضور کی طرف سے موصول ہوئے۔صاحبزادگان مجھ سے پوچھتے کہ ابا جان نے آپ کو کتنے روپے دیئے ہیں۔میں کہتا کہ ساٹھ روپے کیونکہ اگر میں ساری تفصیل بتا دیتا تو انہوں نے کسی نہ کسی بہانے سے مجھ سے ساری رقم خرچ کروا دینی تھی اور میں ڈرتا تھا کہ کہیں فضول خرچی نہ ہو جائے۔کھیاڑ سے واپسی پر ایک پست قد بونا ئخشیش مانگتا ہوا ہمارے پیچھے دوڑا۔میرے پاس ٹوٹے ہوئے روپے نہ تھے۔دس روپے کا نوٹ میں اس کو دے نہ سکتا تھا۔اسی وقت میں نے صاحبزادگان میں سے ایک سے اغلبا میاں رفیع احمد صاحب سے ایک روپیہ قرض لے کر بونے کو دیدیا کہ وہ پیچھا چھوڑے۔ڈلہوزی آ کر وہ روپیہ واپس کر دیا۔واپس آکر جو میں نے حضور کی خدمت میں اخراجات کا حساب پیش کیا۔اس میں آخر میں ہونے والے ایک روپیہ کا تذکرہ تھا اور لکھا کہ ایک روپیہ ہونے کو دینا پڑا اب اس فقرہ پر حضور نے میرا مذاق بنالیا اور کئی مجلسوں میں اس کا تذکرہ فرمایا۔مثلاً فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ بونے نے بشارت کو زمین پر گرا لیا اور اس کی چھاتی پر چڑھ بیٹھا اور گلا دبا لیا اور جب تک ایک روپیہ نکلوا نہ لیا نہ چھوڑا۔حضور کی مجالس جہاں نقدس، روحانیت اور اخلاق کا مرقع ہوتی تھیں وہاں زندہ دلی کا رنگ بھی لئے ہوتیں۔اپنے دوستوں اور خدام سے اکثر پاکیزہ مذاق فرماتے کہ مجلس کشت زعفران بن جاتی۔چنانچہ عموماً محترم ڈاکٹر حشمت اللہ خانصاحب سے یہ زندہ دلی ہوتی۔ایک دفعہ خاکسار اور مکرم مولوی نور الحق صاحب ( جو اس زمانے میں