سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 570
512 وہ ورنہ Systolic مراد تھی۔خاکسار سمجھا کہ پوٹین کوئی خاص قسم کی لذیذ ڈش ہوگی Pudding بمعنی حلوہ کو تو خاکسار جانتا ہی تھا۔خیر میں نے مینو میں پانچویں چھٹے نمبر پر پوٹین لکھ دیا اور پوٹین شیشہ جوڑنے کے مسالا کو کہا جاتا ہے جب میں نے وہ مینو حضور کے سامنے پیش کیا تو کھل کھلا کر ہنس پڑے۔فرمایا اچھا تو ہمیں پوٹین بھی کھلاؤ گے احباب بھی جمع ہو گئے۔حضور نے سب کو لطیفہ سنایا کچھ دنوں تک میرا خوب ہی مذاق بنا رہا۔ان دنوں خاکسار نے ایک اعلیٰ سرکاری ملازمت کے لئے کوشش کی تھی انٹرویو میں لے لیا گیا۔طبی معائنے میں دل میں کچھ نقص ثابت ہوا۔ڈاکٹروں نے کہا کہ دل میں بعض غیر معمولی Murmurs ہیں جنہیں و Murmurs کہتے تھے۔مجھے کہا گیا کہ اس کا علاج کروا کے تین ماہ کے بعد آکر پھر طبی معائنہ کرواؤ۔حضور انور نے محترم ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب کو ہدایت فرمائی کہ ڈاکٹر صاحب بشارت کا علاج کریں اگر واپسی پر اس کے دل میں نقص قائم رہا تو آپ ذمہ دار ہوں گے اب کیا تھا۔ڈاکٹر صاحب نے مجھے شکنجے میں جکڑ لیا حکم ہوا کہ بس دن رات بستر پر لیٹے رہو، حرکت نہ کرو، یہ نہ کرو اور وہ نہ کرو۔میں سخت گھبرایا کہ یہ کیسا علاج ہونے لگا ہے، کیا میں پہاڑ پر بستر پر لیٹنے کے لئے آیا تھا مگر ڈاکٹر صاحب کا آرڈر تھا، چوں و چرا مشکل۔ذرا تعمیل ارشاد میں غفلت تو ڈاکٹر صاحب خفا ہوتے کہ میاں پھر میں تمہارے علاج کا ذمہ دار نہیں ہوں۔مگر میں اس طریق علاج سے بہت تنگ ہوا۔آخر ایک تدبیر سو چی۔ہم سب لوگ حضور کے ہمرکاب اہل قافلہ اوپر کی طرف ایک کوٹھی ”نادر زینت“ میں رہتے تھے۔حضور مع اہل بیت نیچے کی طرف ایک کوٹھی آمر ولا‘ میں قیام پذیر تھے شام کو چار بجے کے قریب حضور گھر سے باہر تشریف لا کر سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔خاکسار عین ۴ بجے آمرولا کے گیٹ پر حاضر۔حضور کی پیشوائی کے لئے کھڑا ہو گیا اس وقت کوئی دوسرا شخص ابھی نہیں پہنچا تھا، نہ کوئی پہرہ دار، نہ محترم درد صاحب جو پرائیویٹ سیکرٹری تھے، بس خاکسار وہاں اکیلا ہی تھا کہ اچانک حضور باہر تشریف لے آئے۔باہر سڑک پر پیشوائی کے لئے اکیلا ہی تھا۔حضور