سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 569 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 569

511 اسی مفہوم کے الفاظ تھے۔تب مجھے اپنی گستاخی کا احساس ہوا۔مگر سانس پھولنے کی حالت میں بھی اس ذرہ نا چیز کے سوالات کے جواب دیتے رہے۔ایک موقع پر اغلبا چمبہ جاتے ہوئے خاکسار حضور کے ساتھ تھا۔پہاڑی چڑھائی پر چڑھ رہے تھے۔حضور نے فرمایا کہ ذرا بیٹھ کر دم لیتے ہیں۔خاکسار نے جھٹ اپنا برساتی کوٹ ایک جگہ بچھا دیا۔حضور اس پر تشریف فرما ہو گئے۔خاکسار حضور کے پاؤں دبانے لگا۔خواہش اور ارمان یہی تھا کہ بس حضور یہاں بیٹھے رہیں اور میں پاؤں دباتا ہی رہوں اور حضور کی میٹھی میٹھی باتیں سنتا ہی رہوں اور خدا کرے باقی احباب بہت دیر سے پہنچیں۔بس میں اکیلا ہی حضور کے پاؤں دباتا رہوں بالکل بچوں جیسے ارمان۔۔۔۔۔۔۔خیر کچھ عرصہ کے بعد دوسرے احباب بھی پیچھے سے آپہنچے تب حضور آگے کی طرف چل پڑے۔کبھی سفروں میں حضور گھوڑے پر بھی سوار ہوتے اور ہم لوگ ساتھ پیدل ہمرکاب ہوتے تھے اور مسلسل حضور سے باتیں کرتے چلے جاتے۔ایک موقع پر بکر وٹہ راؤنڈ پر حضور سیر کر رہے تھے کہ اخروٹ بیچنے والے پہاڑی لوگ پاس سے گذرے۔میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا کہ کچھ اخروٹ لوں حضور سمجھ گئے کہ یہ اخروٹ لینا چاہتا ہے فرمایا۔بشارت اخروٹ لو گے؟ خاکسار نے عرض کی جی حضور۔فوراً واسکٹ کی جیب سے ریزگاری نکالی اور مجھے اور ساتھ بعض بچوں کو اخروٹ لے دیئے جن سے ہماری جیبیں بھر گئیں۔میں نے ایک طرف ہٹ کر ایک پتھر پر کچھ اخروٹ فوراً ہی توڑے اور ان کی گرمی نکالی اور ہتھیلی پر رکھ کر لے آیا اور حضور کے سامنے کی کہ حضور کھا ئیں۔حضور نے مجھے گھور کر دیکھا اور فرمایا میں اس طرح باہر چیز یں نہیں کھایا کرتا تم کھاؤ مجھے اپنی اس گستاخی پر پھر بڑی شرمندگی ہوئی کہ یہ حرکت کیوں کی۔ایک موقع پر کھجیار میں حضور نے رات کا قیام کیا۔خاکسار کو ارشاد فرمایا کہ میں خانساماں کو کھانا تیار کرنے کا آرڈر دوں اور فرمایا کہ مینو مجھے دکھلا لینا۔میں نے خانساماں سے پوچھا کہ کیا مینو ہوگا۔اس نے کئی چیزیں لکھوائیں اور آخر میں لکھوایا کہ ایک ڈش پوٹین کی ہوگی اس سے دراصل Pudding