سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 559 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 559

501 لڑکے محمود احمد اور بشیر احمد (بعمر 9 اور ۷ سال) داخلہ کے لئے افریقہ سے بھجوا دیئے۔حضرت صاحب نے اس پر بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا کہ بیرونِ ہند سے کم سن بچوں کو والد نے جُدا کر دیا ہے۔حضور بہت شفقت فرماتے اور ان کو اکثر یاد فرماتے ، چھوٹے بشیر کو گود میں اٹھا لیا کرتے ، دونوں بچوں کو صرف انگریزی میں بات کرنا آتا تھا۔اس پر بھی حضور بہت متعجب ہوتے کہ کیا ان کی والدہ بھی اتنی انگریزی جانتی ہیں کہ مادری بولی انگریزی ہو گئی ہے۔خاکساراب دو ایسے واقعات ریکارڈ میں لا رہا ہے جو ابھی تک سلسلہ کی تاریخ میں نہیں آئے نہ ہی زبانی کوئی ان کا گواہ ہے سوائے خاندان کے خاص افراد کے۔یہ دونوں واقعات خاکسار سے حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب نے بیان فرمائے تھے۔حضرت ایک دفعہ رفع حاجت کے لئے کموڈ پر جب بیٹھے تو دیکھا کہ اس میں ایک زہریلا سانپ بیٹھا ہوا ہے۔حضرت نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے حفیظ خدا پر توکل کرتے ہوئے خاموش بیٹھے رہے اور ذرہ بھر حرکت نہ کی۔آخر وہ خود ہی آہستگی کے ساتھ کموڈ سے باہر نکل گیا اور حضور کو ڈسنے کی جرأت نہ کر سکا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ دنیا میں شاید یہ اپنی قسم کا پہلا اور منفرد واقعہ ہے کیونکہ ایسی حالت میں کوئی شخص بھی خاموش بیٹھ نہیں سکتا اس کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں اور وہ بے ساختہ اُٹھ کر بچنے کی کوشش کرتا ہے جس کا نتیجہ الٹا یہ ہوتا ہے کہ سانپ اس کو ڈس لیتا ہے۔لاریب اس کے لئے کامل تو کل ، فولادی اعصاب اور کامل ضبط کی ضرورت تھی جو حضور کی فطرت کا لازمہ تھا۔ایک تاریخی سفر میں حضور کی انگوٹھی اَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی انگلی سے گر کر گم ہو گئی۔بہت تلاش کی مگر نہ ملی آخر حضور نے تمام سامان اور بستر وغیرہ کھلوائے دری قالین وغیرہ جو کچھ بھی فرش پر تھا سب جگہ تلاش کی مگر وہ متبرک انگوٹھی نہ ملی۔یہ یقیناً بہت بُری فال تھی کیونکہ اسی قسم کا واقعہ حضرت عثمان کو بھی ایک سفر میں پیش آیا تھا جبکہ آنحضرت صلی الله و الا یلم کی انگشتری ( خاتم النبین والی) کسی کنویں میں گر گئی تھی اور حضرت (عثمان) نے اس کنویں کی مٹی تک نکلوا کر