سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 534
476 ہماری آنکھیں ہر وقت اخبار الفضل کی طرف لگی رہتی ہیں اور جس دن الفضل میں حضور کی خبر نہیں ہوتی وہ دن ہمارا کس طرح بسر ہوتا ہے؟“ الفضل ۱۷ جنوری ۱۹۲۵ء صفحه ۴) حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب تحریر کرتے ہیں :- " مجھے مری سے واپسی پر حضور کا خط ملا۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے کہ غریبوں کو یاد فرمایا اور نالائقوں پر نوازش فرمائی اللہ تعالیٰ حضور کی دعاؤں کو اس خاکسار کے حق میں مقبول فرمائے اور درخواست کرتا ہوں کہ اپنے سفر اور خاص اوقات کی دعاؤں میں اس عاجز کو بھی نہ بھولیں۔ہم لوگ تو کسی وقت حضور کو نہیں بھولتے اور ہر نماز اور ہر وقت کامیابی اور صحت و عافیت اور ترقی مدارج کے لئے دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔قادیان کی کوئی جگہ نہیں ، کوئی مجلس نہیں، کوئی گفتگو نہیں جو حضور کو یاد نہ دلاتی ہو حضور کی نظم آئی تو آخری شعر نے بڑے بڑے سخت دلوں کو تڑپا دیا۔“ الفضل ۱۷ جنوری ۱۹۲۵ء صفحه ۴ ) ایچ ایم مرغوب اللہ صاحب لکھتے ہیں :- 66 رات دن حضور کی خیریت کی تار کا منتظر رہتا ہوں۔جب کبھی اخبار حضور کی خیریت کے تار درج کرنے سے قاصر رہتا ہے۔تو دل میں فکر ہو جاتا ہے آہ! میں وہ لفظ نہیں پاتا وہ قلم نہیں ہے جو میرے دلی جذبات کو قلمبند کرے میرے آقا! خدا حضور کو خیریت سے واپس لاوے میرے ہادی جہاں کہیں ہو خیریت سے رہو۔“ الفضل ۱۷ /جنوری ۱۹۲۵ء صفحه ۴ ) حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب والد چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب لکھتے ہیں :- میں اپنی قلم اور زبان کو اس بات سے قاصر پاتا ہوں کہ جناب کو جو ہمدردی اس عاجز سے ہے اس کا شکریہ ادا کر سکوں۔حضور نے خاص تار کے ذریعہ سے میری واپسی کا دریافت کیا جس سے ثابت ہے کہ حضور کو اپنی جماعت سے ویسی ہی ہمدردی ہے جیسی کہ ایک ایسے باپ کو بچوں سے ہوتی ہے۔جن میں سے ہر ایک بچہ اپنی جگہ یہ خیال کرتا ہے کہ میں ہی باپ کو سب سے زیادہ عزیز ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کی اس ہمدردی کو ترقی دیوے۔آمین۔ہم لوگوں کو