سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 507
449 چالیس کے قریب قیدیوں کو احمدی کر کے روس میں احمدیت کا بیج بو دیا۔ڈیڑھ دو سال قید و بند کی مشکلات و ابتلاء سے گزرنے کے بعد ہنزلی ایران کی بندرگاہ پر چھوڑ دیئے گئے جہاں سے آپ طہران ، بغداد، بصرہ، کراچی سے ہوتے ہوئے ۲۵۔اکتوبر ۱۹۲۶ء کو قادیان پہنچ گئے محبت و جان نثاری اور عقیدت و قربانی کی اس قابل رشک داستان کی تفصیل مکرم مولانا ظہور حسین صاحب کی خود نوشت سوانح ' مجاہد بخارا میں موجود ہے۔) دد شہزادہ عبدالمجید صاحب۔افغانستان کے شاہی خاندان سے تھے اور شاہ شجاع کی نسل سے تھے۔آپ نہایت ہی نیک نفس اور متوکل آدمی تھے میں نے جب تبلیغ کے لئے اعلان کیا کہ ایسے مجاہدوں کی ضرورت ہے جو تبلیغ دین کے لئے زندگی وقف کریں تو انہوں نے بھی اپنے آپ کو پیش کیا۔اس وقت ان کے پاس کچھ روپیہ تھا انہوں نے اپنا مکان فروخت کیا تھا رشتہ داروں اور اپنے متعلقین کا حصہ دے کر خود ان کے حصہ میں جتنا آیا وہ ان کے پاس تھا اس لئے مجھے لکھا کہ میں اپنے خرچ پر جاؤں گا۔اس وقت میں ان کو نہ بھیج سکا اور کچھ عرصہ بعد جب ان کو بھیجنے کی تجویز ہوئی اس وقت وہ روپیہ خرچ کر چکے تھے مگر انہوں نے ذرا نہ بتایا کہ ان کے پاس روپیہ نہیں ہے وہ ایک غیر ملک میں جا رہے تھے ، ہندوستان سے باہر کبھی نہ نکلے تھے، اس ملک میں کسی سے واقفیت نہ تھی۔مگر انہوں نے اخراجات کے نہ ہونے کا قطعاً اظہار نہ کیا اور وہاں ایک عرصہ تک اسی حالت میں رہے، انہوں نے وہاں سے بھی اپنی حالت نہ بتائی نہ معلوم کس طرح گزارہ کرتے رہے پھر مجھے اتفاقا پتہ لگا۔۔۔اس وقت مجھے سخت افسوس ہوا کہ چاہئے تھا جب انہیں بھیجا گیا اس وقت پوچھ لیا جاتا کہ آپ کے پاس خرچ ہے یا نہیں پھر میں نے ایک قلیل رقم ان کے گزارہ کے لئے مقرر کر دی۔وہاں کے لوگوں پر ان کی روحانیت کا جو اثر تھا اس کا پتہ ان چٹھیوں سے لگتا تھا جو آتی رہی ہیں۔ابھی پرسوں اترسوں اطلاع ملی ہے کہ آپ یکم رمضان کو فوت ہو گئے دس دن بیمار رہے ہیں جس طرح قسطنطنیہ کی خوش قسمتی تھی کہ وہاں حضرت ابوایوب انصاری دفن ہوئے۔۔۔اسی طرح یہ