سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 506
448 کام خوش اسلوبی سے ہو جائے۔ایک مرتبہ میری ایک بہن کی پیدائش کے موقع پر والدہ صاحبہ بیمار پڑگئیں، جان کے لالے پڑ گئے ، ڈاکٹر بھی پریشان ہو گئے اس وقت ہم ماڈل ٹاؤن لاہور رہائش پذیر تھے اور حضور ا بھی رتن باغ لاہور میں قیام فرما تھے۔ابا فوراً دعا کی درخواست کے ساتھ حاضر ہوئے ،حضور نے کسی اہم کام کے بارے میں ارشاد فرمایا یہ کام کر و حفیظ ( والدہ صاحبہ ) کی فکر نہ کرو۔ابا نے کہا کہ مجھے اسی وقت تسلی ہو گئی اس کام کو سرانجام دے کر شام کو گھر لوٹے تو والدہ محترمہ آرام سے تھیں اور صحت ہو چکی تھی۔ہمارے ابا کو میں جانتا ہوں والدہ محترمہ سے بہت لگاؤ تھا اور سخت پریشان تھے لیکن حضور کے اس فقرہ نے که فکر نہ کرو تمام اندیشے دور کر دئیے۔یہ حضور کی دعا پر آپ کا اعتماد تھا ورنہ ایسے موقع پر کئی لوگ غذر کر دیتے ہیں۔فدائیت و قربانی کا مندرجہ ذیل نمونہ حضور کی کامیاب قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔جماعت میں ایسے فدائیوں کی کمی نہیں ایک اور مثال ملاحظہ کیجئے۔وو ۱۲۔اکتوبر ۱۹۲۴ء کو ایران کے شہر مشہد پہنچے ، یہاں تپ محرقہ میں مبتلاء ہو کر ہسپتال میں داخل ہو گئے ، شفایاب ہونے پر حضور کی خدمت میں لکھا کہ میں بیماری سے اٹھا ہوں ،سخت کمزور ہوں ، سردی بھی سخت پڑنے لگی ہے اور برف باری بھی شروع ہو گئی ہے۔پھر میں نہ روسی زبان سے واقف ہوں نہ رستہ کا علم ہے، ویزا بھی نہیں ملا ، خرچ بھی کم ہے مگر ان مایوس کن حالات کے باوجود میں بخارا جانے سے رک نہیں سکتا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ حضور کی دعائیں مجھے نا کام نہ ہونے دیں گی۔- دسمبر ۱۹۲۴ء کو بخارا کے لئے روانہ ہوئے، ڈیڑھ دن کے بعد روسی ترکستان میں داخل ہو گئے ، ارتھک سٹیشن سے بخارا کا ٹکٹ لے کر گاڑی میں سوار ہو رہے تھے کہ گرفتار کر لئے گئے اور آپ کو جاسوس سمجھ کر پہلے ارتھک پھر اشک آباد، تاشقند اور ماسکو کے قید خانوں کی تاریک کوٹھڑیوں میں رکھ کر بہت تکالیف پہنچائی گئیں مگر ان مصائب کے باوجود آپ نے قید خانہ میں بھی برابر تبلیغ جاری رکھی اور