سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 488
430 حضرت صاحب اندر تشریف لے گئے اور چند ہی لمحوں کے بعد واپس تشریف لے آئے۔حضرت صاحب کے ہاتھ میں ایک نفیس اور خوبصورت چھڑی تھی کہ عرصہ سے آپ کے استعمال میں تھی۔آپ نے وہ چھڑی میز پر رکھی اور فرمانے لگے لو! یہ چھڑی تمہارے لئے ہے۔عطر سے محرومی کا احساس تو مجھے تھا لیکن حضرت صاحب نے اس طور پر مجھے چھڑی کا تحفہ دے کر نوازا کہ میں مسرور بھی تھا اور ایک روز قبل کے جذبات پر نادم سا بھی۔وہ چھڑی اب بھی میرے پاس بطور تبرک محفوظ ہے اور محرومیوں کے کئی احساسات کو سکون واطمینان کی لہروں میں چھپا لیتی ہے (الفضل ۱۲۔نومبر ۱۹۹۵ء صفحه ۳) مکرم مخدوم محمد ایوب خان صاحب بی۔اے ( علیگ) آف میانی گھوگھیاٹ ضلع سرگودھا لکھتے ہیں۔بیت مبارک ربوہ میں ایک روز ظہر حضرت صاحب کے پیچھے ادا کی۔اس کے بعد حضرت صاحب جب تشریف لے جانے لگے۔تو میں نے اپنے لڑکے عزیزم مخدوم محمد اجمل کی صحت کے واسطے دعا کے لئے درخواست کی۔حضرت صاحب از راہِ شفقت ٹھہر گئے اور فرمانے لگے۔” صرف دعا کے لئے ہی نہ کہا کریں ان کو دوائی مرکب افسنتین استعمال کرائیں۔“ اور مخاطب فرما کر فرمانے لگے۔آپ کے والد صاحب کو اور آپ کی اولاد کو جانتا ہوں۔“ (یعنی سب کی طبیعت سے واقف ہوں) یہ پیارے کلمات سن کر میں تو خوشی سے بھر گیا کہ حضرت صاحب کی ہم معمولی آدمیوں پر ایسی نظر شفقت واحسان ہے۔“ ہم پر ہے ہے الفضل ۱۶۔نومبر ۱۹۹۵ ء صفحه ۴) مکرم لطیف احمد خاں صاحب (ننھا) حضور کے پیار و محبت کی یادیں تازہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- ایک دفعہ حضرت صاحب قادیان سے ڈلہوزی بذریعہ موٹر تشریف لے جا رہے تھے۔جب ہر چو وال پہنچے تو سخت بارش ہو گئی۔ہم نے عرض کیا بارش بہت ہے ہم سٹھیالی تک ساتھ جائیں گے آپ نے فرمایا بہت اچھا۔جب سٹھیالی