سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 486
428 میں سرگرم وسرشار رہتے ہیں“ الفضل ۱۳۔اکتوبر ۱۹۵۰ء صفحہ ۶ ) مکرم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر لکھتے ہیں : - ۱۹۳۵ء کے آخیر میں محترم مولوی نذیر احمد علی صاحب نے گولڈ کوسٹ غانا کیلئے ایک مولوی فاضل کی خدمات حاصل کرنے کے لئے الفضل میں اعلان کروایا۔میں نے یہ اعلان پڑھ کر اپنے آپ کو بلا شرط وہاں جانے کے لئے پیش کر دیا۔جب مولوی نذیر احمد علی صاحب نے حضرت امام جماعت کے سامنے میرا خط پیش کیا تو آپ نے ازارہ شفقت فرمایا۔آپ انہیں ہمراہ لے جائیں کیونکہ وہ بلا شرط جانا چاہتے ہیں، یہ ضرور کام کریں گے ، شرطیں کرنے والے کام نہیں کیا کرتے۔فروری ۱۹۳۶ء کو خاکسار مولوی نذیر احمد علی صاحب کی معیت میں گولڈ کوسٹ دعوت الی اللہ کے لئے روانہ ہوا۔روانگی کے وقت حضرت صاحب نہایت ہی محبت کے ساتھ بغل گیر ہوئے اور دعوت الی اللہ کے متعلق ہدایات دیں۔اکتوبر ۱۹۳۷ء کو برادرم مولوی نذیر احمد علی صاحب کی تبدیلی گولڈ کوسٹ (غانا) سے سیرالیون کر دی گئی اور گولڈ کوسٹ کا چارج مجھے دے دیا گیا۔حضرت کے احسانوں میں سے ایک احسان خاکسار پر یہ بھی ہے کہ میرے ایک خانگی معاملے میں حضرت صاحب نے مجھے بتلائے بغیر خود ہی ذمہ داری لے کر اس معاملہ کو سلجھا دیا۔۱۹۴۶ء کے آخیر میں جب خاکسار گیارہ سال کے بعد گولڈ کوسٹ سے بری راستے سے واپس آ رہا تھا تو تبلیغی مصروفیات، رستہ کی دشواریوں اور بعض مجبوریوں کی وجہ سے میں باقاعدہ خط وکتابت مرکز سے جاری نہ رکھ سکا۔تو حضرت امام جماعت الثانی کو میرے متعلق بہت ہی تشویش پیدا ہوئی چنانچہ جب میں تین چار ماہ سفر میں رہنے کے بعد ے۔جنوری ۱۹۴۷ء کو قادیان پہنچا تو آپ نے اس تشویش اور فکر کا اظہار فرمایا اور نہایت محبت اور شفقت کے ساتھ دیر تک آپ میرے ساتھ بغل گیر رہے“ مکرم میاں غلام محمد اختر صاحب لکھتے ہیں کہ :- (الفضل ۱۲۔نومبر ۱۹۹۵ء صفحہ ۳) /////////////