سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 483
425 تشریف لے آئے تو ایک میٹنگ میں شرکت کے لئے خاکسار کامٹی سے لاہور پہنچا۔اس موقع پر حضور نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا! کہ لوگ شادیاں کرتے ہیں اور ان کی اولاد بعض اوقات نیک اور فرمانبردار بھی نہیں ہوتی مگر وہ ان کے لئے درد رکھتے ہیں لیکن میری دو لاکھ اولا د جو انتہائی طور پر فرمانبردار اور نیک ہے وہ متاثر ہوئی ہے تو میری کیا حالت ہوگی۔یہ امر بیان کرتے ہوئے حضور کی آواز بھرا گئی اور پھر جلد سنبھل گئے۔اس سے حضور کے جماعت کے لئے درد کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ان نازک حالات میں اُجڑے ہوئے افرادِ جماعت کے لئے حضور نے کھانے پینے اور رہائش کے لئے ہر ممکن کوشش فرمائی حضور اپنے خدام اور مریدوں سے ملتے ہوئے بھی اس بات کا اہتمام فرماتے تھے کہ ہر شخص کو کھڑے ہو کر ملیں۔اس خوش خلقی کے قیام کیلئے حضور جماعت کے عہدیداروں ناظر صاحبان وغیرہ سے بھی یہی توقع رکھتے تھے کہ وہ ہر ملنے کیلئے آنے والوں کو کھڑے ہو کر ملیں۔مکرم فضل الرحمان صاحب بہل بی اے بی ٹی بھیروی اپنی ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : - ۱۹۴۳ء کی بات ہے کہ گرمیوں کے موسم میں یہ عاجز کسی کام سے بھیرہ سے لاہور گیا۔جی میں آیا کہ قادیان دارالامان جا کر اپنے آقا کے دیدار سے دل کو ٹھنڈک پہنچاؤں اور کوئی غرض وغایت نہ تھی دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں پہنچ کر ملاقات کے لئے وقت ملنے کی درخواست پیش کر دی نام درج ہو گیا دل شوق زیارت سے بیتاب ہو رہا تھا۔آخر خوش بختی نے میرا ساتھ دیا باریابی کی اجازت ملنے پر بصد شوق دیدار حبیب کے لئے آگے بڑھا۔دل میں اپنے آقا کی عظمت اور اپنی بے بضاعتی اور احساس کمتری کے پیش نظر یہی ارادہ تھا کہ آپ کے پاؤں میں بیٹھنے کی سعادت حاصل کروں گا اور سلام و نیاز عرض کر کے دعا کی درخواست کروں گا لیکن ہوا یہ کہ میرے حاضر ہونے پر حضور پرنور اپنی گرسی سے اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔میں نے بصد ادب سلام مسنون عرض کیا اور مصافحہ کا شرف حاصل کیا دل یہ چاہتا تھا کہ حضور اپنی گری مبارک پر تشریف فرما ہوں تو میں آپ کے پاؤں میں بیٹھ جاؤں اور دل کی پیاس بجھاؤں مگر حضور نے